ماں کاآنچل
قدرت کی اعلیٰ نعمت ماں باپ کی محبت
مدثر حسن مرچال
کیو ں ہر صبح گھر سے مضطرب ہوکر دن بھر کے لئے کہیں دور بھاگتا ہوں؟ کیوں ہر شام گھر لوٹتے ہوئے روحانی مسرت سی لگتی ہے؟ کیوں دوستوں کی محفل نہ چاہتے ہوئے چھوڑ کر گھر کی یاد آتی ہے؟ کیوںکوئی انجان ڈور گھر کی اور کھینچ لیتی ہے؟ کیوںگھر پہنچتے ہی دم سنبھلنے لگتاہے ، خیالات میں ٹھہراو ¿، جذبات میں ثبات کی کیفیت درآتی ہے ؟ میںیہ سوالات اپنے آپ سے اکثر تنہائی میں پوچھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ تب خیالوں میں تلاطم پیدا ہوتا ہے ، دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو جاتی ہیں۔عین اسی وقت ایک چہرا دُھندلا سا سامنے آتا ہے اور نہایت ہی درد بھری آواز میں مجھ سے ہم کلام ہو کر میری اُلجھنوں کے جواب میں کہتا ہے۔۔۔ میں ہوںتجھ پر مامتا بھری شفقت کاسائبان ، یہ میرے ہی آنسوﺅں کا صلہ ہے جو تمہیں اس آشیانے سے دور نہیں ہونے دیتا۔تم جس چہرے کو دیکھنے کے ا شتیاق میں روز شام کو گھر لوٹ کر اپنی تھکن دور کرتے ہو وہ میرا ہی چہرہ ہے،تم جس وجود کی آغوش میں اپنا تھکاماندہ سر رکھ کر آرام کی نیند سوجاتے ہو، وہ ماں میں ہوں ۔ یہ میٹھی مدھر آواز سن کر میرااضطراب بڑھنے لگتا ہے اور یہ مامتا بھرا چہرہ باربار دیکھنے کی آرزو جاگ اُٹھتی ہے ۔ اتنے میں ایک ہوا کے جھونکے سے یہ چہرہ عیاں ہو جاتا ہے تو اس میں صرف ماں کی بے لوث مامتا کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ہاں! یہ وہی چہرہ ہے جس کی جھریوں میں وہ داستانیں چھپی ہیں ،جو دردناک بھی ہیں اور نم ناک بھی۔ ان جھریوں سے ہر وہ داستاں بیاں ہوتی ہے جو وقت کے ظالم لمحات نے اس فرشتہ صفت خاتون کی زندگی میں رقم کر رکھی ہیں۔ وہ فاقہ کش راتیں، وہ مشقت بھری صبحیں،وہ وحشتوں کا دور اور بے چین آرزوﺅں کا عالم اور ہر درد کی سلوٹ اس چہرے کی آینئہ دار ہے۔اتنے میںجب شعور کی آنکھ وا ہوتی ہے اور احتساب کا دروازہ کھلتا ہے تو اپنے آپ کو پسینے میں شرابور پاتا ہوں ۔اپنی ذ مہ داریوں کا احساس ڈسنے لگتا ہے، کچھ ایسا کرنے کا من بناتا ہوں مامتا کے آنچل کا قرضہ اُتار نے کے لئے اورمجھ پر پوری زندگی نچھاور کرنے والے اس نورانی وجودکا خادم بن جاﺅں ، اس کی ہر شکایت کاازالہ کروں، اس کے ہر غم کی دوا بنوں،لیکن پل بھر میں سب بدل جاتا ہے کیونکہ میں تیزگام زندگی کی کئی اور اُلجھنوں میں اٹک جاتا ہوں ۔صبح سویرے آفس کا رُخ کر کے پھر سے اسی سلسلہ ¿روز وشب کا غلام ہوجاتا ہوں، کشمکش ِ زندگانی کے بھنور میںکھو جاتاہوں جو برسوں سے میرا معمول بناہوا ہے۔بالآخر ایک ملازم ، ایک بیٹے، اور سماج کے ایک فرد جیسے کرداروں کی تقسیم میں بٹ جاتا ہوں، بکھر جاتاہوں کہ ماں کا سایہ ہی مجھے میری وجود کو قفس عنصری میں سمیٹ لیتاہے۔
یہ کہانی کسی ایک فرد کی نہیں ہے بلکہ شاید ہر اُس شخص کی ہے جو دُنیا کی خوش حالیاں بٹورنے کی جستجو میں ہمہ وقت لگا رہتا ہے مگر ساتھ خواہی نہ خواہی ان نرم ونازک اور مقدس رشتوں کو فراموش کرجاتاہے جو اس کی زندگی کو ایک معنویت اور مقصدیت عطاکر تے ہیں۔ خصوصی طورجس عورت کی کوکھ سے ہم نے جنم لیا، جس نے اپنی زندگی کی خوشیاں ہم پر بلا معاوضہ خو شی خوشی لٹادیں ، جس نے ہمیں اپنی اَرمانوں میں بسایا، اُسے خوشی اور مسرت کی چند گھڑیاں دینے کے لئے شاید قوم کے کسی مشغول بیٹے کے پا س وقت نہیں، مہلت نہیں ،فکر نہیں ، خندہ پیشانی نہیں ، خوشی اور دل لگی کے دوبول نہیں۔ نہ اس باپ کے ساتھ وقت گزارنے کا ہمارے پاس کوئی فرصت کا لمحہ ہوتاہے جس نے ہماری ضروریاتِ زندگی کے لئے اپنی ضرورتوں کو نظرانداز کیا ہوتاہے۔
ایسا کیوں ہے کہ ماں باپ کو خوشحال رکھنے کی باری آتے ہی ہمیں کیوں دنیا وی منصب ، ذمہ داریاں اور تھکادینے والی مشغولیات کی ساری فہرست یاد آتی ہے؟حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کی خوشی کے لئے یہ سب مصروفیات اور دلچسپیاں یک لخت قربان کی جائیں کیونکہ ماں ہی وہ ذات ِگراں مایہ ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے، جس کی طرف ایک مسکراتی نظر ڈالنا عین عبادت ہے ، جو اپنے ہر بچے کی راحت وآرام کی خاطر خود کو ہرمصیبت میں ڈالنے سے گریز نہیں کر تی ، جوراتوں کی نیندیں رضاکارانہ طور تج دیتی ہے، دن کا آرام چھوڑ دینے پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کر تی ، بچوں کی پرورش وپرداخت کو ہر چیز پر اولین ترجیح دینے کو اپنا فخر جتاتی ہے، ہر طرح کے فرائض کا بوجھ اُٹھاتی ہے،اپنے بچے کے دُکھ درد کو کم کرنے کی غرض سے اپنا درد بھلا دیتی ہے۔آج اس کے تئیں جب ہماری ذمہ داریوں کا وقت آن پہنچا تو ہم پیچھے کیسے ہٹ جاتے ہیں؟ اور طرفہ تماشہ پھر بھی میں اولاد سے گلہ نہیں کرتی ،شکوہ نہیں کر تی مجھے چھوڑ کے مت جاو ¿،زیادہ سے زیادہ اپنی قسمت کو کوستی ہے ، زمانے کی گردش پر سارا دوش ڈالتی ہے ، سماجی قدروں کی ٹوٹ پھوٹ کا رونا روکر اپنے بچوں بچےوں کی لاج رکھتی ہے ،ا ن کی بے وفائیوں کی پردہ پوشی کر تی ہے لیکن بدلے میں یہ کیاپاتی ہے ؟ آج جہاں بھی دیکھئے انسان دُنیوی اُلجھنوں میں پڑ کر رشتوں کی اہمیت کو بھول چکا ہے ۔اسی بھاگم دوڑ نے اولڈ ایج ہومز کو مغرب ومشرق میں جنم دیا جہاں سنتان سے مالامال بوڑھے ماں باپ زندگی کے آخری دن گزارنے کے لئے کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دئے جاتے ہیں بلکہ سچ پوچھئے تو ان قریب المرگ ضعیفوں کو غیروں کے رحم و کرم پر ڈالا جاتا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک ہماری وادی میں رسماً ایسے ہومزکا زیادہ رُجحان نہیں مگر بہ نظر غائر دیکھا جائے توہمارے اکثر گھرہی اولڈ ایج ہومز میں بدل چکے ہیں ۔ بہر صورت وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب بزرگ ماں باپ کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ہر ممکنہ طریقے پر اپنے فرائض کو انجام دینے میں مخلصانہ کاوشیں کریں تاکہ سماج میں اخلاقی بحران ، رشتوں میں افرا تفری دورہو اور ہمارے گھرسکون واطمینان اور زینت وزیبائش کا گہوارہ بن جائیں۔ایک بہترین اُستاد، بہترین ڈاکٹر، بہترین انجی ¿نیراور بہترین افسر ، دانشورو قلم کارہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا بیٹا اچھی بیٹی بننے کا شرف بھی حاصل کیجئے۔
رابطہ :ہردوشیواہ ۔۔۔ زینہ گیر سوپور
9906607520
(کالم :-کشمیر عظمی)
قدرت کی اعلیٰ نعمت ماں باپ کی محبت
مدثر حسن مرچال
کیو ں ہر صبح گھر سے مضطرب ہوکر دن بھر کے لئے کہیں دور بھاگتا ہوں؟ کیوں ہر شام گھر لوٹتے ہوئے روحانی مسرت سی لگتی ہے؟ کیوں دوستوں کی محفل نہ چاہتے ہوئے چھوڑ کر گھر کی یاد آتی ہے؟ کیوںکوئی انجان ڈور گھر کی اور کھینچ لیتی ہے؟ کیوںگھر پہنچتے ہی دم سنبھلنے لگتاہے ، خیالات میں ٹھہراو ¿، جذبات میں ثبات کی کیفیت درآتی ہے ؟ میںیہ سوالات اپنے آپ سے اکثر تنہائی میں پوچھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ تب خیالوں میں تلاطم پیدا ہوتا ہے ، دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو جاتی ہیں۔عین اسی وقت ایک چہرا دُھندلا سا سامنے آتا ہے اور نہایت ہی درد بھری آواز میں مجھ سے ہم کلام ہو کر میری اُلجھنوں کے جواب میں کہتا ہے۔۔۔ میں ہوںتجھ پر مامتا بھری شفقت کاسائبان ، یہ میرے ہی آنسوﺅں کا صلہ ہے جو تمہیں اس آشیانے سے دور نہیں ہونے دیتا۔تم جس چہرے کو دیکھنے کے ا شتیاق میں روز شام کو گھر لوٹ کر اپنی تھکن دور کرتے ہو وہ میرا ہی چہرہ ہے،تم جس وجود کی آغوش میں اپنا تھکاماندہ سر رکھ کر آرام کی نیند سوجاتے ہو، وہ ماں میں ہوں ۔ یہ میٹھی مدھر آواز سن کر میرااضطراب بڑھنے لگتا ہے اور یہ مامتا بھرا چہرہ باربار دیکھنے کی آرزو جاگ اُٹھتی ہے ۔ اتنے میں ایک ہوا کے جھونکے سے یہ چہرہ عیاں ہو جاتا ہے تو اس میں صرف ماں کی بے لوث مامتا کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ہاں! یہ وہی چہرہ ہے جس کی جھریوں میں وہ داستانیں چھپی ہیں ،جو دردناک بھی ہیں اور نم ناک بھی۔ ان جھریوں سے ہر وہ داستاں بیاں ہوتی ہے جو وقت کے ظالم لمحات نے اس فرشتہ صفت خاتون کی زندگی میں رقم کر رکھی ہیں۔ وہ فاقہ کش راتیں، وہ مشقت بھری صبحیں،وہ وحشتوں کا دور اور بے چین آرزوﺅں کا عالم اور ہر درد کی سلوٹ اس چہرے کی آینئہ دار ہے۔اتنے میںجب شعور کی آنکھ وا ہوتی ہے اور احتساب کا دروازہ کھلتا ہے تو اپنے آپ کو پسینے میں شرابور پاتا ہوں ۔اپنی ذ مہ داریوں کا احساس ڈسنے لگتا ہے، کچھ ایسا کرنے کا من بناتا ہوں مامتا کے آنچل کا قرضہ اُتار نے کے لئے اورمجھ پر پوری زندگی نچھاور کرنے والے اس نورانی وجودکا خادم بن جاﺅں ، اس کی ہر شکایت کاازالہ کروں، اس کے ہر غم کی دوا بنوں،لیکن پل بھر میں سب بدل جاتا ہے کیونکہ میں تیزگام زندگی کی کئی اور اُلجھنوں میں اٹک جاتا ہوں ۔صبح سویرے آفس کا رُخ کر کے پھر سے اسی سلسلہ ¿روز وشب کا غلام ہوجاتا ہوں، کشمکش ِ زندگانی کے بھنور میںکھو جاتاہوں جو برسوں سے میرا معمول بناہوا ہے۔بالآخر ایک ملازم ، ایک بیٹے، اور سماج کے ایک فرد جیسے کرداروں کی تقسیم میں بٹ جاتا ہوں، بکھر جاتاہوں کہ ماں کا سایہ ہی مجھے میری وجود کو قفس عنصری میں سمیٹ لیتاہے۔
یہ کہانی کسی ایک فرد کی نہیں ہے بلکہ شاید ہر اُس شخص کی ہے جو دُنیا کی خوش حالیاں بٹورنے کی جستجو میں ہمہ وقت لگا رہتا ہے مگر ساتھ خواہی نہ خواہی ان نرم ونازک اور مقدس رشتوں کو فراموش کرجاتاہے جو اس کی زندگی کو ایک معنویت اور مقصدیت عطاکر تے ہیں۔ خصوصی طورجس عورت کی کوکھ سے ہم نے جنم لیا، جس نے اپنی زندگی کی خوشیاں ہم پر بلا معاوضہ خو شی خوشی لٹادیں ، جس نے ہمیں اپنی اَرمانوں میں بسایا، اُسے خوشی اور مسرت کی چند گھڑیاں دینے کے لئے شاید قوم کے کسی مشغول بیٹے کے پا س وقت نہیں، مہلت نہیں ،فکر نہیں ، خندہ پیشانی نہیں ، خوشی اور دل لگی کے دوبول نہیں۔ نہ اس باپ کے ساتھ وقت گزارنے کا ہمارے پاس کوئی فرصت کا لمحہ ہوتاہے جس نے ہماری ضروریاتِ زندگی کے لئے اپنی ضرورتوں کو نظرانداز کیا ہوتاہے۔
ایسا کیوں ہے کہ ماں باپ کو خوشحال رکھنے کی باری آتے ہی ہمیں کیوں دنیا وی منصب ، ذمہ داریاں اور تھکادینے والی مشغولیات کی ساری فہرست یاد آتی ہے؟حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کی خوشی کے لئے یہ سب مصروفیات اور دلچسپیاں یک لخت قربان کی جائیں کیونکہ ماں ہی وہ ذات ِگراں مایہ ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے، جس کی طرف ایک مسکراتی نظر ڈالنا عین عبادت ہے ، جو اپنے ہر بچے کی راحت وآرام کی خاطر خود کو ہرمصیبت میں ڈالنے سے گریز نہیں کر تی ، جوراتوں کی نیندیں رضاکارانہ طور تج دیتی ہے، دن کا آرام چھوڑ دینے پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کر تی ، بچوں کی پرورش وپرداخت کو ہر چیز پر اولین ترجیح دینے کو اپنا فخر جتاتی ہے، ہر طرح کے فرائض کا بوجھ اُٹھاتی ہے،اپنے بچے کے دُکھ درد کو کم کرنے کی غرض سے اپنا درد بھلا دیتی ہے۔آج اس کے تئیں جب ہماری ذمہ داریوں کا وقت آن پہنچا تو ہم پیچھے کیسے ہٹ جاتے ہیں؟ اور طرفہ تماشہ پھر بھی میں اولاد سے گلہ نہیں کرتی ،شکوہ نہیں کر تی مجھے چھوڑ کے مت جاو ¿،زیادہ سے زیادہ اپنی قسمت کو کوستی ہے ، زمانے کی گردش پر سارا دوش ڈالتی ہے ، سماجی قدروں کی ٹوٹ پھوٹ کا رونا روکر اپنے بچوں بچےوں کی لاج رکھتی ہے ،ا ن کی بے وفائیوں کی پردہ پوشی کر تی ہے لیکن بدلے میں یہ کیاپاتی ہے ؟ آج جہاں بھی دیکھئے انسان دُنیوی اُلجھنوں میں پڑ کر رشتوں کی اہمیت کو بھول چکا ہے ۔اسی بھاگم دوڑ نے اولڈ ایج ہومز کو مغرب ومشرق میں جنم دیا جہاں سنتان سے مالامال بوڑھے ماں باپ زندگی کے آخری دن گزارنے کے لئے کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دئے جاتے ہیں بلکہ سچ پوچھئے تو ان قریب المرگ ضعیفوں کو غیروں کے رحم و کرم پر ڈالا جاتا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک ہماری وادی میں رسماً ایسے ہومزکا زیادہ رُجحان نہیں مگر بہ نظر غائر دیکھا جائے توہمارے اکثر گھرہی اولڈ ایج ہومز میں بدل چکے ہیں ۔ بہر صورت وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب بزرگ ماں باپ کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ہر ممکنہ طریقے پر اپنے فرائض کو انجام دینے میں مخلصانہ کاوشیں کریں تاکہ سماج میں اخلاقی بحران ، رشتوں میں افرا تفری دورہو اور ہمارے گھرسکون واطمینان اور زینت وزیبائش کا گہوارہ بن جائیں۔ایک بہترین اُستاد، بہترین ڈاکٹر، بہترین انجی ¿نیراور بہترین افسر ، دانشورو قلم کارہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا بیٹا اچھی بیٹی بننے کا شرف بھی حاصل کیجئے۔
رابطہ :ہردوشیواہ ۔۔۔ زینہ گیر سوپور
9906607520
(کالم :-کشمیر عظمی)
No comments:
Post a Comment