ہندوستان کے سابقہ صدر اورمیزائل مین آف انڈیا کہلائے جانے والے عظیم سائنسدان اے پی جے عبد الکلام نے اپنی کئی تحریرات میں اپنے اُن چند خاص اساتذہ کا ذکر بڑے فخر وانبساط سے کیا ہے جن سے وہ ا ستفادہ کر چکے ہیں ۔ ان میںایک استاد S.S.Sabaramuni iyer کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار موصوف کلاس میں اپنے طلباءکو پڑھا رہے تھے جن میں عبد الکلام بھی شامل تھے۔اس دوران ذہین استاد نے پرندوں کے اُڑنے کا طریقہ طلبہ کو بڑی عرق ریزی کے ساتھ سمجھایا،۲۵ منٹ طویل لیکچر کے بعد جب اُس نے طلبہ سے پوچھا کیا اُنہیں لیکچر سمجھ آیا تو سب کی طرف سے نہیں میں جوا ب ملا۔ اس نے طلباءکے تئیں کوئی مایوسی کا اظہار نہ کیا بلکہ طلبہ کے پورے گروپ کو شام کے وقت Rameswaram سمندر کنارے جمع ہونے کے لئے کہا۔شام کو جب بچے سمندر کے کنارے اپنے استاد سے ملے تو اُس نے اُڑتے پرندوں کی طرف انہیں متوجہ کر کے اطمینان سے کلاس کی ہر بات دوبارہ سمجھائی۔عبد الکلام کا کہنا ہے کہ استاد کا سمندر کنارے یہ منفرد لیکچر اتنا موثر تھا کہ میرے اندر Aeronotical engineer بننے کا سپنا اسی بنیاد پر پروان چڑھا۔ یہ کہانی ایک اُستاد کے صبر، پیشہ ورانہ درد اور بچوں کے تئیں بے لوث محبت کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک اور جگہ اے پی جے عبد الکلام آئین ِ ہند کے خالق بھیم راو¿ امبید کرکی کہانی چھیڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک نچلے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اونچے خاندان کے ہندو اس جاتی کے لوگوں کو اچھوت اور نیچ سمجھتے تھے مگربھیم راﺅ کا ایک ہم نام استاد اونچی ذات کا تھا۔ چونکہ سماجی بھید بھاو¿ کے سبب یہ ایک عجیب بات تھی، اس لئے بھیم راﺅ اپنے استادکے سامنے احساسِ کمتری میں پڑ جاتے ، لیکن اس استاد نے اپنے ہونہار شاگردکو پڑھانے لکھانے میں خاندانی اونچ نیچ کو نہیں لایا بلکہ اپنے پیشہ ¿استاد ی کی لاج رکھی ۔اے پی جے عبدالکلام کے مطابق یہ استاد اپنے ہم نام شاگرد بھیم راﺅ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا کرتا تھا۔ اس سے بھیم راﺅ کے حوصلے آسمان کی بلندیاں چھونے لگے کہ چلتے چلتے وہ ہندوستان کے ایک چمکتے ستارے بن گئے۔یہاں استاد نے اپنے منصبی فرائض کو ترجیح دے کر اپنے ذاتی خیالات اور خاندانی پس منظر کو پس پشت ڈال کر د کھایا کہ استاد جوہری ہو تاہے،جو یہ نہیں دیکھتا کہ لعل وجواہر کس کی ملکیت ہے بلکہ ان کی قیمت لگاتا ہے۔
کو ئی بھی حقیقی استاد اسی جذبے کے ساتھ اپنے شاگرد کی داخلی صلاحیتوں کو اُبھار کر ان کی زندگی کے کاکل سنوارتا ہے۔یہ عظیم منصب ذاتی مفاد اور نجی خیال کی قربانی چاہتا ہے۔اے پی جے عبد الکلام کہتے ہیں ۔"Role of a teacher is just like a proverbial ladder. it is used by every one to climb up in the life, but the ladder itself stays in its place" ۔حقیقت یہ ہے اگرایک استاد طلبہ کو سائنس پڑھا رہا ہے تو اُس میں سائنسی جانچ پر کھ کا مزاج اور ذوق ہونا لازمی ہے تاکہ شاگرد کو واقعی میں اس سے سائنس کے آسمان میں اڑنے کا Inspiration مل سکے ۔ اگر استاد ادبی مضامین پڑھا رہا ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ اور تخلیقی صلاحیتیں ایک شاعر یا ادیب سے کم نہ ہوں تاکہ طلبہ میں شاعرانہ اور ادیبانہ مزاج پیدا ہواور قوم کو ایک نئی کائناتِ فکر ملے۔ ہمارے اساتذہ میں یہ صلاحیتیں بدرجہ ¿ اتم موجود ہیں لیکن اگر کہیں کوتاہی ہے بھی تو صرف کمنٹمنٹ، دلچسپی اور صلاحیتوں کو ابھارنے کے فن وہنر میں۔ ضرورت اس بات کی ہے اساتذہ کو ہی نہیں بلکہ تعلیمی نظام کو انہی خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ قوم کا مستقبل تابنا ک ہو نے کا خواب شر مندہ ¿ تعبیر ہو۔
یہ بلاگ محظ اس لئے تیار کیا گیا تاکہ ہم اسے وادی کے اردو اخبارات میں چھپنے والے اپنے مضامین کے ایک مجموعہ کی صورت میں استعمال کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس بلاگ میں کچھ اہم ادبی خبریں اور مضامین شائع کئے جایئں گے جو کسی دوسرے لیکھک کی تخلیق ہو۔ ہمارا مقصد اپنی بات انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا اور اردو زبان کو فروغ دینا ہے۔ شکریہ مدثر حسن مرچال زینہگیر کشمیر
Saturday, July 8, 2017
استاد
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
(12 نومبر 2016 کو کشمیر عظمی میں چھپا میرا مضمون) کشمیر میں رواں ایجی ٹیشن کے دوران جہاں بے شمار دل دہلانے والے واقعات رونما ہوئے ،وہیں نظا...
-
خوشی بھرے ماحول میں سب ہنسی مزاق میں محو تھے۔کوئی ندی کے کنارے تصویریں لے رہا تھا تو کوئی طرح طرح سے دوستوں کا منورنجن کرنے میں لگا تھا۔ می...
-
کشمیر کے موجودہ حالات کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟ (مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر) خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر ک...