Saturday, June 3, 2017

تفریح جو یاد رہے گی

خوشی بھرے ماحول میں سب ہنسی مزاق میں محو تھے۔کوئی ندی کے کنارے تصویریں لے رہا تھا تو کوئی طرح طرح سے دوستوں کا منورنجن کرنے میں لگا تھا۔ میں ندی کے کنارے بیٹھے اپنے دوستوں کی تصویر لینے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک میرے کانوں سے زور زور کی آوازیں ٹکرانے لگیں۔ کوئی مجھے  جلدی نیچے بیٹھنے کے لئے آواز دے رہا تھا۔اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا میں نے زمین کے ہلنے کو محسوس کیا، یہ اندازہ لگانا اب مشکل نہ تھا کہ مجھے اس لئے نیچے بیٹھنے کو کہا جا رہا تھا کہ زلزلہ  ہو رہا تھا۔ دور بستیوں سے چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ زمین کے ہلنے میں شدت پیدا ہونے لگی۔پانی بھی زلزلے کی وجہ سے حرکت کرنے لگا تھا۔ سب دوست جو ابھی تک ہنسی مزاق میں محو تھے اب حواس   باختہ نظر آنے لگے۔ ابھی تک جو پیڑ پودے تفریع کے سامان بنے تھے اب ان پیڑ پودوں سے ڈر لگنے لگا۔ پانی گویا خوبصورت سے خوفناک ہونے لگا۔در اصل ان چیزوں میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ ان کو دیکھنے کا نظریہ گویا بدل گیا۔ بہر کیف سب کو اپنے احباب کی فکر ہونے لگی۔زلزلہ جیسے تیسے رک گیا۔ اور ہم سب اپنے اپنے گھر رابطہ کرنے لگے جو اب نہیں ہو پا رہا تھا۔ فون سروس کچھ دیر کے لئے بند ہو گئی تھی۔  ہم اندازہ لگانے لگے کہ اس کی شدت 6۔8 کے آس پاس ہوگی جو اندازہ بالآخر صحیح ثابت ہوا۔کچھ وقت کے لئے ہر شخص کو کلمہ پڑھتے دیکھا،کسی کو قرآن کی تلاوت کرتے سنا گویا اب دنیا بدل گئی تھی۔ گویا زندگی سدھر گئی تھی،مزاج مومنانہ سا ہو گیا تھا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد جب خطرہ ٹل گیا تو پھر سے وہی فریب،دھوکہ دہی، موقعہ پرستی اور زر پرستی کا کاروبار  شروع ہوگیا ۔  

No comments:

Post a Comment

جعلی ‏میڈیا ‏اور ‏بلیک ‏میلنگ

بشکریہ روزنامہ کشمیر عظمیٰ سرینگر