Saturday, June 3, 2017

افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چہرا کہ مٹائے نہیں مٹتا۔

چائے کی گرم چسکیاں لیتے ہوئے بھی وہ چہرہ گویا میری نظروں کے سامنے ہی تھا۔ میری اداسی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔  پریشانی کا یہ عالم تھا کہ میں اپنے آنکھوں کی نمی تک نہ چھپا سکا۔ چشم تر نے میری افسردگی کا راز عیاں کر دیا۔  وہ  چہرہ جس کی جھریاں  صدیوں کی کہانی بیاں کر رہے تھے۔ جس کے کمزور جسم سے عمر بھر کی جی توڑ محنت کی کہانی بیاں ہو رہی تھی۔ کانپتے ہوئے ہاتھ اور نیم کھلی آنکھیں بار بار یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اب اس ضعیف العمر خاتون کو سہارا چاہئے تھا۔ اب اپنے آپ اس خاتون ستم ذدہ سے نہ اٹھا جارہا تھا اور نہ بیٹھا جا رہا تھا۔ میری آنکھوں میں وہ منظر بار بار آکر میرے ذہن و دل کو جھنجھوڑ رہا تھا کہ جب وہ خاتون سڑک کے کنارے کسی حادثے کی شکار ہوئی تھی اور ہاتھ میں رکھی دوائی کی بوتل ٹوٹی ہوئی تھی۔اس وقت اس کی آنکھوں میں جو آنسو تھے وہ کسی بھی مرد ہوشمند کے دل کو تیزاب کی طرح ریزہ ریزہ کر سکتے تھے پھر میں کیا چیز تھا۔ میں نے دریافت کیا کہ آخر اس خاتون کے بچے کہاں تھے تو معلوم ہوا کہ اس کے بچوں نے اس دنیا کو خیر باد کہہ کر اپنی بوڑھی ماں کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ موت کے سامنے آخر کس کی چلتی ہے۔ اس کے بچوں کو موت پہلے آئی یہ تعجب کی بات نہ تھی لیکن اس قوم کی نوجوان نسل بھی کیا موت کے آغوش میں چلی گئی تھی کہ جو اس خاتون کا اس بھری دنیا میں بھی کوئی سہارا نہ تھا۔

No comments:

Post a Comment

جعلی ‏میڈیا ‏اور ‏بلیک ‏میلنگ

بشکریہ روزنامہ کشمیر عظمیٰ سرینگر