ایک دور تھا جب میں صرف اپنے لئے جیا کرتا تھا۔ مجھے کیا چاہئے؟ میرے لئے اچھا کیا ہوگا؟ میرے مقاصد کیسے پورے ہوں؟ یہی سوال تھے جو میرے دل و دماغ پر حاوی ہو کر مجھے ایک انجان سی ڈگر پہ تنہا سفر کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ اگر چہ اُس وقت میرے احباب اور دوست سب میرےساتھ تھے لیکن مجھے ایک اکیلا پن سا محسوس ہوتا تھا۔ خود پرستی اورخود غرضی نے مجھے ایک ہنستی کھیلتی خوبصورت زندگی سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب مجھے ناکامیوں نے گھیر لیا۔ میرا گھمنڈ ذرا ٹوٹا تو ہوش ٹھکانے آئے۔ میں نے اپنی زندگی کے لیل و نہار دوسروں کے نام کرنا سیکھا اور میں دوسروں کے لئے جینے لگا۔
سچ پوچھو تو جب سے میں نے اوروں کے لئے سوچنا شروع کردیا تب سے زندگی حد درجہ خوبصورت ہونے لگی ہے۔
میں نے اپنے وقت کو کئی حصوں میں تقسیم کیا۔۔۔ ایک حصہ بچوں( Students) کے نام، ایک دوستوں کے نام اور باقی کچھ سماج کے لئے۔۔۔ وقت کو تقسیم کرتے کرتے اپنے لئے کچھ بچا ہی نہیں۔۔۔
اب حالت یہ ہے کہ نہ دن میرے ہیں اور نہ ہی راتیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ خوشی بہت ہے۔۔۔۔
(م۔ح۔مرچال)
یہ بلاگ محظ اس لئے تیار کیا گیا تاکہ ہم اسے وادی کے اردو اخبارات میں چھپنے والے اپنے مضامین کے ایک مجموعہ کی صورت میں استعمال کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس بلاگ میں کچھ اہم ادبی خبریں اور مضامین شائع کئے جایئں گے جو کسی دوسرے لیکھک کی تخلیق ہو۔ ہمارا مقصد اپنی بات انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا اور اردو زبان کو فروغ دینا ہے۔ شکریہ مدثر حسن مرچال زینہگیر کشمیر
Friday, September 21, 2018
میرا وقت
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
(12 نومبر 2016 کو کشمیر عظمی میں چھپا میرا مضمون) کشمیر میں رواں ایجی ٹیشن کے دوران جہاں بے شمار دل دہلانے والے واقعات رونما ہوئے ،وہیں نظا...
-
خوشی بھرے ماحول میں سب ہنسی مزاق میں محو تھے۔کوئی ندی کے کنارے تصویریں لے رہا تھا تو کوئی طرح طرح سے دوستوں کا منورنجن کرنے میں لگا تھا۔ می...
-
کشمیر کے موجودہ حالات کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟ (مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر) خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر ک...