Friday, September 21, 2018

میرا وقت

ایک دور تھا جب میں صرف اپنے لئے جیا کرتا تھا۔ مجھے کیا چاہئے؟ میرے لئے اچھا کیا ہوگا؟ میرے مقاصد کیسے پورے ہوں؟ یہی سوال تھے جو میرے دل و دماغ پر حاوی ہو کر مجھے ایک انجان سی ڈگر پہ تنہا سفر کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ اگر چہ اُس وقت میرے احباب اور دوست سب میرےساتھ  تھے لیکن مجھے ایک اکیلا پن سا محسوس ہوتا تھا۔ خود پرستی  اورخود غرضی نے مجھے ایک ہنستی کھیلتی خوبصورت زندگی سے  الگ تھلگ کر دیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب مجھے ناکامیوں نے گھیر لیا۔ میرا گھمنڈ ذرا ٹوٹا تو ہوش ٹھکانے آئے۔ میں نے اپنی زندگی کے لیل و نہار دوسروں کے نام کرنا سیکھا اور میں دوسروں کے لئے جینے لگا۔
سچ پوچھو تو جب سے میں نے اوروں کے لئے سوچنا شروع کردیا تب سے زندگی حد درجہ  خوبصورت ہونے لگی ہے۔
میں نے اپنے وقت کو کئی حصوں میں تقسیم کیا۔۔۔ ایک حصہ بچوں( Students) کے نام، ایک دوستوں کے نام اور باقی کچھ سماج کے لئے۔۔۔ وقت کو تقسیم کرتے کرتے اپنے لئے کچھ بچا ہی نہیں۔۔۔
اب حالت یہ ہے کہ نہ دن میرے ہیں اور نہ ہی راتیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ خوشی بہت ہے۔۔۔۔
(م۔ح۔مرچال)

جعلی ‏میڈیا ‏اور ‏بلیک ‏میلنگ

بشکریہ روزنامہ کشمیر عظمیٰ سرینگر