مدثر مرچال بلاگ
یہ بلاگ محظ اس لئے تیار کیا گیا تاکہ ہم اسے وادی کے اردو اخبارات میں چھپنے والے اپنے مضامین کے ایک مجموعہ کی صورت میں استعمال کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس بلاگ میں کچھ اہم ادبی خبریں اور مضامین شائع کئے جایئں گے جو کسی دوسرے لیکھک کی تخلیق ہو۔ ہمارا مقصد اپنی بات انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا اور اردو زبان کو فروغ دینا ہے۔ شکریہ مدثر حسن مرچال زینہگیر کشمیر
Friday, August 27, 2021
Wednesday, April 10, 2019
Tuesday, January 15, 2019
Saturday, October 6, 2018
Friday, September 21, 2018
میرا وقت
ایک دور تھا جب میں صرف اپنے لئے جیا کرتا تھا۔ مجھے کیا چاہئے؟ میرے لئے اچھا کیا ہوگا؟ میرے مقاصد کیسے پورے ہوں؟ یہی سوال تھے جو میرے دل و دماغ پر حاوی ہو کر مجھے ایک انجان سی ڈگر پہ تنہا سفر کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ اگر چہ اُس وقت میرے احباب اور دوست سب میرےساتھ تھے لیکن مجھے ایک اکیلا پن سا محسوس ہوتا تھا۔ خود پرستی اورخود غرضی نے مجھے ایک ہنستی کھیلتی خوبصورت زندگی سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب مجھے ناکامیوں نے گھیر لیا۔ میرا گھمنڈ ذرا ٹوٹا تو ہوش ٹھکانے آئے۔ میں نے اپنی زندگی کے لیل و نہار دوسروں کے نام کرنا سیکھا اور میں دوسروں کے لئے جینے لگا۔
سچ پوچھو تو جب سے میں نے اوروں کے لئے سوچنا شروع کردیا تب سے زندگی حد درجہ خوبصورت ہونے لگی ہے۔
میں نے اپنے وقت کو کئی حصوں میں تقسیم کیا۔۔۔ ایک حصہ بچوں( Students) کے نام، ایک دوستوں کے نام اور باقی کچھ سماج کے لئے۔۔۔ وقت کو تقسیم کرتے کرتے اپنے لئے کچھ بچا ہی نہیں۔۔۔
اب حالت یہ ہے کہ نہ دن میرے ہیں اور نہ ہی راتیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ خوشی بہت ہے۔۔۔۔
(م۔ح۔مرچال)
Tuesday, July 10, 2018
Wednesday, May 30, 2018
Sunday, May 20, 2018
صیام کا احترام!
صیام کا احترام کریں!
2014 کی بات ہے۔شدید گرمی میں ماہِ صیام کا پہلا دن تھا اور میں بھوپال مدھیا پردیش میں امتحان دینے اپنے امتحانی مرکز کی طرف جا رہا تھا۔ آٹو (میجک) میں بیٹھا تو میرے ٹھیک سامنے ایک ادھیڑ عمر کی غیر مسلم عورت بیٹھی جس کی عمر غالباً چالیس پینتالیس سال رہی ہوگی۔ وہ ہاتھ میں کچھ چِپس اور ایک پانی کی بوتل لئے آٹو میں سوار ہوئی۔ میں نے ہلکی سی داڑھی رکھی تھی اور شاید کشمیریوں کی شکل تھوڑی منفرد ہے اس لئے اس عورت نے اندازہ لگایا کہ میں ایک کشمیری مسلمان ہوں۔ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا: بیٹا آپ کشمیری ہو؟
میں نے بھی اس کی بات کا مسکرا کر جواب دیا: جی میں کشمیر سے آیا ہوں۔
اس کا اگلا سوال تھا: آپ لوگوں کے آج سے روزے شروع ہوئے نا؟
میں نے سر ہلاتے ہوئے تصدیق کی۔
اب وہ روزوں کے بارے میں پوچھنے لگی تو میں بھی کھل کے بات کرنے لگا۔
اس نے پوچھا: آپ نے ابھی روزہ نہیں رکھا ہوگا کیوں کہ آپ ابھی چھوٹے ہو؟
میں نے مسکراتے ہوئے کہا : نہیں آنٹی میں روزے سے ہوں۔
میری یہ بات سن کر اسے جیسے کرنٹ لگا۔ اس نے فوراً پانی کی بوتل اور چپس اپنے ساتھ لائے بیگ میں رکھ دیے اور کافی شرمندہ ہوکر کہنے لگی : بیٹا معاف کرنا مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ روزے سے ہو اس لئے میں آپ کے سامنے ہی چپس کھا رہی تھی۔
میں کافی حیران ہوا کہ ایک غیر مسلم عورت اس بات پہ شرمندہ ہوئی کہ اس نے روزوں کا جانے انجانے میں احترام نہیں کیا جبکہ وہ اس بات کے لئے مکلف نہیں تھی۔
ماہ و سال گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے حافظے سے یہ بات نکل گئی تھی لیکن چند روز قبل ایک کشمیری مسلمان بھائی کو صیام کے دوران سرِعام دن دھاڑے سگریٹ پیتا دیکھ کر مجھے فورا وہ عورت یاد آئی۔۔۔
کاش ہم بھی اللہ کے احکام کا احترام کرنے کا جذبہ رکھتے۔
Monday, May 14, 2018
Wednesday, November 29, 2017
A case of Turo Thieri found.....Have a look
Tuesday, September 5, 2017
Word of thanks to my dear teachers
I have been taught by a good number of teachers, I remember each and every one of them. Be it my kindergarten days in #Green_Land_English_Medium_School Hardushiva where Aziz sir, Maqbool sir, Mansoor sir used to teach us or #Degree_College sopore where Shameem sir(Zoology), Rafeeq sir(Zoology), Altaf sir(Chemistry), S.M.Bukhari Sir(English), Mushtaq sir(Chemistry), Ayoub sir(Botany) and Tariq Sir(Botany) used to guide, and teach us. I cant forget the days when I would prefer to spend more time in my mama ji's(M.Abdullah shah sb's) class,nor can I forget the day Ms. Poosha ma'am (Zoology) gave me her daughter's Biology reference and advised me to prepare for the exams from same. Posha ma'am and other staff members (like Ahanger sir(Zoology) , N.A. dand sir(Principal , Haji M.Ashraf sir, G.M.Pandith Sir-Botany) of #Govt_Higher_Secondary_School_Dangerpora treated me as their own kid......
I also remember one of my great Maths teachers Late M.Yousuf paul sir who taught us in such a great way that in my 9th and 10th class Maths became my favourite subject.
Each and every teacher I met in my life were complete teachers. I cant just mention all the names but I really remember each one of them.
Here I must add that one of my teachers is still guiding me and teaching me as he is not only my mentor and teacher but is one of my uncles....Mr. M. Lateef Mirchal....
#Thanks_To_All_My_Great_Anthusiastic_Energetic_and_Brilliant_Teachers...
#Happy_Teachers_Day
Monday, August 7, 2017
تلخ نوائی
عمدہ کپڑے زیب تن کرنے یا ٹائی باندنے سے انسان بہتر نہیں ہو جاتا۔ انسان کی زبان اور اخلاق صحیح ہونے چاہئے۔ میں دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ کچھ پڑھے لکھے انپڑھ افراد جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور قابل سمجھنے کی خوش فہمی میں ہیں، فیس بک پر ایسے ایسے پوسٹ اور فکرے لکھ کر اپلوڈ کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو شرم آجائے۔ میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ اخلاقی طور گرنے والا شخص اپنے آپ کو کتنا بھی قابل سمجھتا ہو، کامیاب کبھی نہیں ہو سکتا۔
#اللہ_تعلی_نوجونوں_کو_فہم_واخلاق_سے_نوازے۔
ورنہ یہ قوم بھی فرہنگی قوم کی طرح خسارے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
Saturday, July 8, 2017
استاد
ہندوستان کے سابقہ صدر اورمیزائل مین آف انڈیا کہلائے جانے والے عظیم سائنسدان اے پی جے عبد الکلام نے اپنی کئی تحریرات میں اپنے اُن چند خاص اساتذہ کا ذکر بڑے فخر وانبساط سے کیا ہے جن سے وہ ا ستفادہ کر چکے ہیں ۔ ان میںایک استاد S.S.Sabaramuni iyer کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار موصوف کلاس میں اپنے طلباءکو پڑھا رہے تھے جن میں عبد الکلام بھی شامل تھے۔اس دوران ذہین استاد نے پرندوں کے اُڑنے کا طریقہ طلبہ کو بڑی عرق ریزی کے ساتھ سمجھایا،۲۵ منٹ طویل لیکچر کے بعد جب اُس نے طلبہ سے پوچھا کیا اُنہیں لیکچر سمجھ آیا تو سب کی طرف سے نہیں میں جوا ب ملا۔ اس نے طلباءکے تئیں کوئی مایوسی کا اظہار نہ کیا بلکہ طلبہ کے پورے گروپ کو شام کے وقت Rameswaram سمندر کنارے جمع ہونے کے لئے کہا۔شام کو جب بچے سمندر کے کنارے اپنے استاد سے ملے تو اُس نے اُڑتے پرندوں کی طرف انہیں متوجہ کر کے اطمینان سے کلاس کی ہر بات دوبارہ سمجھائی۔عبد الکلام کا کہنا ہے کہ استاد کا سمندر کنارے یہ منفرد لیکچر اتنا موثر تھا کہ میرے اندر Aeronotical engineer بننے کا سپنا اسی بنیاد پر پروان چڑھا۔ یہ کہانی ایک اُستاد کے صبر، پیشہ ورانہ درد اور بچوں کے تئیں بے لوث محبت کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک اور جگہ اے پی جے عبد الکلام آئین ِ ہند کے خالق بھیم راو¿ امبید کرکی کہانی چھیڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک نچلے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اونچے خاندان کے ہندو اس جاتی کے لوگوں کو اچھوت اور نیچ سمجھتے تھے مگربھیم راﺅ کا ایک ہم نام استاد اونچی ذات کا تھا۔ چونکہ سماجی بھید بھاو¿ کے سبب یہ ایک عجیب بات تھی، اس لئے بھیم راﺅ اپنے استادکے سامنے احساسِ کمتری میں پڑ جاتے ، لیکن اس استاد نے اپنے ہونہار شاگردکو پڑھانے لکھانے میں خاندانی اونچ نیچ کو نہیں لایا بلکہ اپنے پیشہ ¿استاد ی کی لاج رکھی ۔اے پی جے عبدالکلام کے مطابق یہ استاد اپنے ہم نام شاگرد بھیم راﺅ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا کرتا تھا۔ اس سے بھیم راﺅ کے حوصلے آسمان کی بلندیاں چھونے لگے کہ چلتے چلتے وہ ہندوستان کے ایک چمکتے ستارے بن گئے۔یہاں استاد نے اپنے منصبی فرائض کو ترجیح دے کر اپنے ذاتی خیالات اور خاندانی پس منظر کو پس پشت ڈال کر د کھایا کہ استاد جوہری ہو تاہے،جو یہ نہیں دیکھتا کہ لعل وجواہر کس کی ملکیت ہے بلکہ ان کی قیمت لگاتا ہے۔
کو ئی بھی حقیقی استاد اسی جذبے کے ساتھ اپنے شاگرد کی داخلی صلاحیتوں کو اُبھار کر ان کی زندگی کے کاکل سنوارتا ہے۔یہ عظیم منصب ذاتی مفاد اور نجی خیال کی قربانی چاہتا ہے۔اے پی جے عبد الکلام کہتے ہیں ۔"Role of a teacher is just like a proverbial ladder. it is used by every one to climb up in the life, but the ladder itself stays in its place" ۔حقیقت یہ ہے اگرایک استاد طلبہ کو سائنس پڑھا رہا ہے تو اُس میں سائنسی جانچ پر کھ کا مزاج اور ذوق ہونا لازمی ہے تاکہ شاگرد کو واقعی میں اس سے سائنس کے آسمان میں اڑنے کا Inspiration مل سکے ۔ اگر استاد ادبی مضامین پڑھا رہا ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ اور تخلیقی صلاحیتیں ایک شاعر یا ادیب سے کم نہ ہوں تاکہ طلبہ میں شاعرانہ اور ادیبانہ مزاج پیدا ہواور قوم کو ایک نئی کائناتِ فکر ملے۔ ہمارے اساتذہ میں یہ صلاحیتیں بدرجہ ¿ اتم موجود ہیں لیکن اگر کہیں کوتاہی ہے بھی تو صرف کمنٹمنٹ، دلچسپی اور صلاحیتوں کو ابھارنے کے فن وہنر میں۔ ضرورت اس بات کی ہے اساتذہ کو ہی نہیں بلکہ تعلیمی نظام کو انہی خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ قوم کا مستقبل تابنا ک ہو نے کا خواب شر مندہ ¿ تعبیر ہو۔
Friday, June 30, 2017
بھارتی میڈیا حد درجہ متعصب
یوں تو صحافت کو جمہوریت کے ستون کا درجہ حاصل ہے۔ کسی بھی ملک کی ذہنیت اور تخیلاتی بلوغیت کی عکاسی کرنے اور افراد قوم و ملت کو درپیش مشکلات حکام تک پہنچانے کے لئے پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کا ایک خاص رول رہتا ہے۔ یعنی اگر یوں کہا جائے کہ صحافت سے جڑے ادارے عوام کے ترجمان ہوتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ یا دوسرے الفاظ میں کہیں تو حکومت اور رعایہ کے درمیان میڈیا ایک پل کا کام کرتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں اس معاملے کے تعلق سے بھی الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ یہاں میڈیا کو منافرت پھیلانے، عوام اور حکام کے بیچ رسہ کشی بڑھانے اور حکومت کے ہر اچھے اور برے قدم پہ بے جا واہ واہی کرنے کے لئے خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سیاسی جماعت کے ہاتھ میں حکومت کی بھاگ ڈور ہوتی ہے اسی جماعت کے پاس میڈیا کا رموٹ کنٹرول بھی ہوتا ہے۔ اگر بھارتی میڈیا کی موجودہ کارکردگی کا بغور جائزہ لیا بائے تو اس بات کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ جب سے بی جے پی سرکار بنی ہے تب سے میڈیا نے اس جماعت کا کچھ زیادہ ہی پردرشن کرنا شروع کر دیا۔ بی جے حکومت کی ہر غلطی کو حکمت عملی اور کامیاب سٹریٹجی کا نام دے کر حکومت کی تعریف میں پل باندھے جاتے ہیں۔ پھر چاہے وہ کشمیر کے عام شہری کو فوجی جیپ سے باندھنے کا معاملہ ہو یا پھر گو ہتھیا پہ حکومت کی خاموشی کا معاملہ ہو۔ ٹیلی وجن چینلوں پہ جو مباحثے منعقد ہوتے ہیں۔ وہ یا تو تعصب سے بھرپور ہوتے ہیں یا پھر نفرت کو پھیلانے کے لئے چنگاری کا کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں تو پچھلے چند سال سے مباحثے اور دیگر پروگراموں میں برقعے کا مدعا، ازان کا مدعا، تین طلاق کا مدعا اور گوماس یعنی گائے کا گوشت چھایا رہا۔ اس کے علاوہ جنتی نفرت کشمیر اور کشمیریوں کے بارے میں بھارتی میڈیا نے چند سال سے پھیلائی شاید پچھلی دہائیوں سے پیش آئے واقعات سے بھی اتنی نفرت نہیں پھیلی ہوگی۔ بھارتی ٹیلی وجن چینلوں پر نیوز اینکرس کا یہ اب ایک فیشن بن گیا ہے کہ کشمیریوں کو ہر محاظ پر غلط ثابت کرو اور پڑھوسی ملک پاکستان کو جتنا ہو سکے بدنام کرو۔ میڈیا کا یہ رول مشتبہ بھی ہے اور تشویشناک بھی۔
ایک طرف جہاں کشمیر میں ہونے والے پتھراو کے خلاف شعلہ بیاں اینکرنگ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے خلاف خوب ذہر اگلا جاتا ہے وہیں ٹرین میں سفر کر رہے مسلمان نوجونوں کو مار مار کر موت کے گھاٹ اتارنے پر میڈیا خاموش دکھائی دیتی ہے۔ کبھی سرجیکل سٹرائک کا ٹریلر دکھا دکھا کر بھارت میں رہہ رہے عوام کو خوش فہمی میں ڈالا جا تا ہے تو کبھی گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ بتا کر کچھ غداروں کا سہارا لیتے ہوئے کئی دن تک پروپگنڈہ کیا جاتا ہے۔
NEWS INDIA, ZEE NEWS,NEWS NATION اور دیگر کچھ ٹی وی چینلز پہ پاکستان، کشمیر، گو ہتھیا اور برقعے کے علاوہ کوئی دوسرا مباحثہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کم و بیش ہر مباحثے میں دین کے اصولوں کو بدلنے کی بھرپور وکالت کی جاتی ہے۔
ان صحافت سے جڑے افراد سے ہمارا صرف یہ سوال ہے کہ اگر آپ کا مزاج اتنا ہی متعصب ہے تو صحافت کی ڈگری لینے کا کیا مطلب تھا؟ صحافت میں انسان کو غیر جانبدارانہ مزاج اور عوام کی ترجمانی کا درس دیا جاتا ہے لیکن آپ نے صحافت کا مقصد ہی بدل کر اسے جانبدارانہ رنگ دے کر زنگ آلود کر دیا ہے۔ شائد اسی لئے دن بہ دن میڈیا سے لوگوں کا بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے۔ ملک کی آزادی کے ستھر سال بعد بھی اگر کوئی شعبہ ذہنی طور ایک خاص طبقئہ فکر،رنگ، نسل، ذات، برادری اور آئیڈیالوجی کا غلام ہو تو اس سے بڑے افسوس کی بات کوئی اورنہیں ہو سکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی ہمت پیدا کی جائے اور رنگ، نسل، برادری اور ذات کی حدود سے بالاتر ہوکر ایک صحیح صحافی کا کردار اپنے اندر پیدا کرکے عوام کے مسائل کی ترجمانی کی جائے۔
Wednesday, June 28, 2017
یوگی آدتیہ ناتھ کے سو دن۔۔۔۔۔۔۔اور غنڈہ گردی کے بڑھتے قدم
چند روز قبل بھارت کی ریاست یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی سرکار کے سو دن پورے کر لئے۔ میڈیا نے بھی اس پر چند مباحثے اور پروگرام نشر کئے۔ لیکن کل ملا کر جو اہم نقطے سامنے آئے ان سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہوگی سرکار میں اگر کسی چیز نے فروغ پایا تو وہ ہے غنڈہ گردی۔ یہ بات اگرچہ تشویشناک ضرور ہے لیکن زیادہ حیران کن نہیں ہے کیونکہ یوگی آدتیہ ناتھ کا ٹریک ریکارڈ پہلے سے ہی مشکوک رہا ہے۔ بلکہ خود یوگی پر دو ہزار سات کے فسادات میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔باریک بینی سے جائزہ لیں تو بی جے پی میں جگہ پانے کے پیچھے بھی ان کے متنازعہ بیانات و مسلم دشمن رویہ خاص طور پر کارفرما ہیں۔ بہر کیف یوگی سرکار کے دوران غنڈہ گردی کا آغاز روز اول سے ہوا جب سرکار بننے کے اگلے ہی دن یو پی کے گلی کوچوں میں پوسٹر چسپان کیے گئے جن میں مسلمانوں کو یوپی چھوڈنے کی صلاح دی گئی تھی۔ اسی دن سے یو پی میں مسلمانوں کے سکھ چین کی الٹی گنتی شروع ہوئی۔ قارئین کو یاد ہی ہوگا کہ جب یوگی نے اکھلیش سرکار کے خلاف مورچہ سنبھالا تھا تو لوگوں کے تحفظ ، اور سماج کے پچھڑے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی بازآبادکاری جیسے مسائل کویقینی بنانے کا خوب دعوے کیا گیا بلکہ ان ہی چیزوں میں اکھلیش سرکار کی ناکامی کو الیکشن مدعا بنایا گیا۔ یوگی نے ٹی وی بیان میں خود دعوے کیا تھا کہ اب عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ لیکن سرکار بننے کے بعد یوگی کی کتھنی اور کرنی میں واضع تفاوت پائی گئی۔ یوگی نے لوگوں کو تحفظ دینے کے نام پر چند ایسے اقدام اٹھائے جس سے غنڈہ گردی کو مزید ہوا ملی،جیسے انہوں نے اینٹی رومیو سکارڈ نام سے ایک تنظیم تیار کی جس کے کئی گروہ بنائے گئے۔ ان کا کام یہ بتا یا گیا کہ یہ لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو دھر دبوچ لینے کے لئے استعمال ہوں گے۔ لیکن لڑکیوں کی عزت کے محافظ بنے یہ لوگ کون ہیں،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے ان کا ویڈیو بنانے میں سب سے پہلے یہی اسکاڑ ملوث پایا گیا۔ اس گروہ میں کام کرنےوالوں میں اگرچہ پولیس کے افراد بھی شامل تھے لیکن جس طرح راہ چلتی لڑکیوں کو یہ نام نہاد اینٹی رومیو اسکارڈ پریشان و حراساں کرتا رہا وہ شاید کو ئی نامی غنڈہ بھی نہیں کر سکتا۔ وزیر اعلی یوگی کا دعوے ہے کہ اس سکارڈ سے عورت کو یو پی میں تحفظ ملا ہے۔ اس دعوے کے صحیح ہونے پر اس سے بڑا سوال کیا ہوسکتا ہے کہ اینٹی رومیو اسکارڈ کے باوجود ایک لڑکی کو جنسی زیادتی سے بچنے پر ذندہ جلایا گیا۔ وہیں دوسری طرف یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ کہیں پر بھائی بہن یا میاں بیوی بھی اگر راہ چلتے ملے تو ان کو حراساں کیا گیا۔ اور حکومت کا پورا تعاون ہونے کی وجہ سے اس گروہ کی غنڈہ گردی چلتی رہی۔ یوں کہا جائے کہ اینٹی رومیو اسکارڈ کی تشکیل دینا غنڈہ گردی کو ہوا دینے اور سڑک چھاپ موالیوں کو غنڈہ گردی کا لائسنس فراہم کرنے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے دور حکومت میں مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف سرگرم عمل تنظیمیں بھی پیچھے نہ رہی۔ گورکشا کے نام پہ قتل ہو یا دلتوں کے خلاف اتیاچار ہو ہر معاملے میں یوپی آگے رہی۔
اگر دیکھا جائے تو یہ حالات صرف یوپی میں نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں اس وقت پائے جا رہے ہیں۔ شائد اس لئے کیونکہ ہندوستان میں بی جے پی سرکار ہے جو روز اول سے ہی غنڈہ گردی، اسلام دشمنی ، اور زعفرانی کلچر کی وکالت کرتی آرہی ہے۔ چند روز قبل ہی عید الفطر کے موقعے پر یو پی کے مسلمان دوکانداروں کو یہ کہہ کر پولیس کی طرف سے حراساں کرنے کی کوشش کی گئی کہ انہوں نے عید کے موقعے پر گائے کا گوشت میسر رکھا تھا جودوکانداروں کے بقول سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ لیکن پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور کئیوں کو اسی الزام کے تحت گرفتار کیا۔ نتیجے کے طور پر دوکاندار تیش میں آئے اور معاملہ پتھراو اور احتجاج تک پہنچ گیا۔
اس طرح سے اتر پردیش میں تا حال قانون اور عوامی تحفظ کی حالت دن بہ دن تباہ ہوتی جارہی ہے اور دوسری طرف یوگی آدتیہ ناتھ اپنی حکومت کے سو دن پورے ہونے پر خوشیاں مناتے ہوئے دعوے کر رہے ہیں کہ انہوں نے عوام کے دل جیتے۔ اگر حالات یہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب یو پی کے مسلمان اور دلت یوپی ہی نہیں بلکہ بھارت چھوڈ کر چلے جائیں گے۔
Monday, June 26, 2017
کشمیر کے موجودہ حالات
کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟
(مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر)
خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر کی زیر چوب ہلاکت نے پوری قوم کو یہاں تک کہ پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا۔ اگرچہ انکاونٹر میں یا دوسرے چھوٹے بڑے واقعات میں پولیس اہلکار کا یا فوج کے جوانوں کا ہلاک ہونا یا زخمی ہونا دہائیوں سے جاری ہے لیکن اس طرح سے لوگوں کے غصے کا شکار ہو کر کسی اہلکار کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اول الذکر ہر فرد کی یہ ذمہداری بنتی ہے کہ کسی کا بھی خون ہو یا کسی کا بھی لہو بہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ رواں ایجیٹیشن میں جوبھی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا یا جو بھی شخص حالات کی ہتھے چڑھا اس کا افسوس ہر انسانیت کی پاسداری کرنے والے شخص کوضرور ہوگا۔ لیکن یہاں کچھ سوال ضرور جنم لیتے ہیں جو جواب طلب بھی ہیں اور تشویشناک بھی۔ اسے ایک واقعے کے طور پہ دیکھیں تو اس کی فوری وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے جیسے مذکورہ اہلکار کا وہاں موجود ہو نا ، اس کا تصویر کھینچنا، اور لوگوں کے سوالات کے جواب میں پستول نکالنا وغیرہ وغیرہ ۔ اس واقعے کی فوری وجوہات کے بارے میں ہر طرف سے رائے اور قیاص آرائیاں ہو رہی ہیں ۔اکثر ٹیلی وجن چینل نے اس موضوع پر کافی مباحثے چھیڑے اور اس پر اپنے اپنے انداز میں ہر سیاسی ، سماجی، سرکاری وغیر سرکاری طبقہ ہائے فکر نے رائے زنی کی۔ یہ بات اور ہے کہ کشمیر میں عام لوگوں کے ساتھ بالعموم اور نوجوانوں کے ساتھ بالخصوص جو ظلم و بربریت کی روایت دہائیوں سے قائم ہے اس کے بارے میں لب کشائی کرنا بھارتی ٹیلی وجن چینلوں کو مناسب نہیں لگتا۔
بہر کیف یہ واحد واقعہ نہیں ہے کہ جہاں خون بہا ہو یا جہاں قتل ہوا ہو۔ کشمیر وہ خطہ ہے جہاں روز بروز کوئی نہ کوئی انہونی ضرور پیش آتی ہے۔ پھر چاہے وہ وردی پوش کی لاش گرے یا نقاب پوش کی، یا پھر عام شہری کی۔ سوال صرف اتنا نہیں ہے کہ کس کے خون پر کس کو کیا سزا ملے یا پھر کس کے خون کی تحقیقات ہوئی اور کس کی نہیں۔ بلکہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کب تک سڑکیں لال اور آنکھیں نم ہوتی رہیں گی۔ کب تک معرکہ آرائیاں ہوں گی۔ کریک ڈاون، ٹارچر اور سرچ آپریشن کے نام پر کب تک حراستی قتل ہوتے رہیں گے۔واضع رہے کشمیر میں صرف مذکورہ افسر ہی ان حالات میں نہیں مارے گئے۔ یہاں کالج لیکچرار کو فوج کی طرف سے زیر چوب مارا گیا تھا۔ یہاں ایسی ہزاروں داستانیں پہلے بھی رقم ہوچکی ہیں لیکن تب مارنے والے ہاتھ کوئی اور تھے اور مرنے والا عام کشمیری تھا۔
یہ بات نہایت تشویش ناک ہے کہ اب خون دونوں طرف سے بہہ رہا ہے۔ قاتل و مقتول دونوں ایک ہی ملت و قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ لہذا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ خون خرابہ بند کب ہوگا۔ آخر کب ایک عام شہری کے دل سے غیر یقینیت اور عدم تحفظ جیسی پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔
ٹی وی چینلز پر بھی ایسے کچھ سوالات کا جواب دینے کی کوشش ضرور کی گئی۔ اکثر مباحثوں میں حصہ لینے والے پینلسٹ اس بات پر کچھ زیادہ زور دے رہے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ سخت سے سخت سلوک کیا جائے۔ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ اب یہیں پہ بس نہیں ہوا بلکہ خود جموں کشمیر ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے لوگوں کو مزید بڑھکانے کا کام کرتے ہوئے انہیں پولس و فوج کی صبر کا امتحان نہ لینے کی صلاح دی۔ ان پینلسٹ حضرات سے یہ سوال کرنا بے جا نہ ہوگا کہ پچھلی چند دہائیوں سے یہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے کیا وہ سخت سلوک نہیں ہے؟ آپ سخت سلوک کی بات کرتے ہوئے یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ سخت روئہ تو دہائیوں سے ہی کشمیریوں کے ساتھ برتا جارہاہے، اور حاصل کیا ہوا ما سوائے لاشوں کے ڈھیر، خون آلود شب و روز اور گلی گلی سے آنے والی چیخ و پکار۔ شائد یہ بھی ایک وجہ ہے کہ لوگ عید جیسے پر مسرت تہوار کو بھی احتجاج کے ہی طور مناتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ تشدد اور سختی سے لاشوں کی تعداد بڑھانے میں ہی مدد ملے گی، چنگاری کو اور ہوا ملے گی نتیجے کے طور آگ اور بھیانک و جان لیوا ثابت ہوگی۔
ایسے واقعات کو روکنے کے لئے اور امن کی فضا قائم کرنے کے لئے دوسرا علاج جو چند سیاستدانوں نے ٹیلیوجن پہ انٹرویو کے دوران بتایا وہ ہے اعتماد سازی اور دل جیتنے کی کوششیں۔ یہ بھی سدباونا، اڈان اور سینکڑوں دیگر سکیموں و پروگراموں کی صورت میں کئی سال سے زیر عمل ہیں لیکن اس سے بھی آج تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں طریقہ کار ناکام ثابت ہوئے تو آخر کیسے اس آگ کو روکا جائے۔ در اصل یہ دونوں طریق کار اصل صورتحال سے بھاگنے اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ یہ ناسور کا علاج مرہم پٹی سے کرانے کے مترادف ہے۔
کشمیر میں غیر یقینیت و عدم تحفظ وہ بیماری ہے جس کا سرسری طور علاج کرنا لاحاصل عمل ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل مدعا سے بھاگنے کی کوشش نہ کرتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ستھر سال پہلے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ ٹی وی پر اٹوٹ انگ کے نعرے الاپنا ایک بے جا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ عوام کے مطالبات اور ان کے برسوں پرانے ہڑپ شدہ حقوق ان کو واپس ملیں۔ الیکٹرانک میڈیا سے بھی التماس ہے کہ خدارا کشمیر کا اور زیادہ تماشا نہ کریں۔ حقائق کو توڈ مروڈ کر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ کشمیر میں ہونے والے ہے چھوٹے بڑے واقعے کو پڑھوسی ملک سے جھوڑ کر عوام کے اصل مطالبات کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح کی متعصب ٹی وی اینکرنگ کرکے صحافت کے غیر جانبدارانہ ادارے کو داغدار نہ کریں۔
بہر کیف اللہ کرے کی کشمیر میں امن کی فضاء ہمیشہ کے لئے قائم ہو اور ظلم و بربریت سے نجات ملے۔
Monday, June 5, 2017
مدارس کی آگ ذنی میں کس کا ہاتھ
(12 نومبر 2016 کو کشمیر عظمی میں چھپا میرا مضمون)
کشمیر میں رواں ایجی ٹیشن کے دوران جہاں بے شمار دل دہلانے والے واقعات رونما ہوئے ،وہیں نظام تعلیم پر بھی اُفتاد پڑی ۔ا س بنا پر طلبہ نے نامساعد حالات کے سبب بہت کچھ کھودیا۔ اب اسکولوں کی آگ زنیاں ہورہی ہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم میں انقلاب وتغیر کی ہوائیں چلیں تو نوجوانوں خاص کر طلبہ وطالبات نے ہراول دستے کاکام دیا اور تعلیم کدوں نے انقلاب کی کامیابی میں اپنا خصوصی رول ادا کیا ۔ دنیا کا ہر باشعور اور مہذب انسان مانتا ہے کہ تعلیمی ادارہ کسی بھی قوم یا ملت کا ایک بیش قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ ان سے قوموں کی تقدیریں بدل سکتی ہیں بشر طیکہ نظام ِتعلیم اور نظر یۂ تعلم دُرست ہو۔ کشمیری قوم بہت خوش قسمت ہے کہ چرب دست و تردماغ ہو نے کے ناطے یہ تعلیم وتدریس اور خواندگی کو قدر ومنزلت کا مقام دیتی چلی آئی ہے ۔ا س نے غلامی ا ور محکومی کے دور ِ ظلمت میں بھی اپنی اس فطری خصوصیت کا قدم قدم پر ثبوت پیش کیا اور مثالیں بنائیں مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے وادیٔ کشمیر میں جس انداز سے نامعلوم بدخواہوں کے ہاتھوں تعلیمی اداروں کو خاکستر کرنے کا سنسنی خیز سلسلہ جاری ہے ،وہ اہل دانش اور ذی فہم افراد کو انگشت بہ دنداں ہونے پر مجبور کردیتا ہے۔ان صدمہ خیز واقعات پر جہاں ریاست کے باشعور طبقات دکھ اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور مزاحمتی لیڈرشپ سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پُر زور الفاظ میں اس شیطانیت کی مذمت کر ر ہے ہیں، وہیں ریاستی حکومت بھی بر وزن ِ شعر اس صورت حال پر اپنی چنتا ظاہر کررہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کون کر رہاہے ؟ کس کے اشارے پر کر رہاہے؟ کیوں کر رہاہے؟ اساتذہ ، طلباء، والدین اور ہر ہوش مند وخردمند نہایت ہی افسردگی اور بے بسی کے ساتھ یہ سوال اٹھارہاہے کہ آخر کون ہے جو ان بیش قیمت اثاثوں کو خاک میں ملا رہاہے ۔ یہ تو وہ جانتا ہے کہ کشمیری قوم کو قبروں میں اتارنے سے کون کون لطف اٹھارہاہے مگر سکول جلاکر قوم کو خواندگی کے نور سے محروم کر دینے والے کون ہیں ،ا س کا لوگوں کو علم نہیں ۔ یہ جو کوئی ہو کم ازکم یہ اہل کشمیر کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا ۔ گولیوں سے نوجوانوں کو چھلنی کر نے ، چھروں سے بچوں تک کی بینائیاں چھین لینے اور قوم کو مفلوج کر نے والے لوگ کون ہیں اورا ُن کے برے عزائم کیا ہیں ، یہ سب ہم پر واضح ہے مگر تعلیمی اداروں کو جلانے والوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہورہی جو کہ ہنوز ایک معمہ ہے ۔ اس بارے میں جو سوالات اٹھ رہے ہیں ،ان کا تشفی بخش جواب نہ عام لوگوں کے پاس ہے ، نہ سیاسی قیادت کے پاس اور نہ ہی ہمدردی اورسنجیدگی سے عاری حکومتی عہدیداروں کے پاس۔ اس لئے ہم سب کے پاس اگر کچھ ہے تو محض واویلا اور تاسف وتعجب۔ ان سوالوں کی گھتی اپنی جگہ ا لبتہ حکومت کا اساتذہ اور استانیوں پر اسکولوں کی شب وروز رکھوالی ا ور چوکیداری کی ذمہ داری عائد کر نا ایک مضحکہ خیز اقدام ہونے میں دورائے نہیں۔ یہ کام پولیس کے دائرہ ٔ اختیار میں آتا ہے کہ وہ شرپسندوں سے اسکولوں کو بچائیں نہ کہ بچارے ٹیچروں کا۔ اگر پولیس والے پنڈت بستیوں کی رکھوالی پر مامور ہیں تو اسکولوں کی رکھوالی پر کیوں تعینات نہیں کئے جاسکتے ؟ اس سے پھر پتہ چلتا ہے کہ حکومت اسکولوں کے بچاؤ میںکوئی خاطرخواہ دفاعی اقدام نہ کر نے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے۔ چونکہ حکومت نے سوائے سینہ کوبی کے عملاًکچھ بھی نہ کیا،نتیجہ یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے اسکول نذر آتش ہو رہے ہیں۔ ہمارے کرم فرما حکمرانوں نے تعلیمی اداروں کو بچانے کا کام Contengency Paid Workersجیسے قلیل اُجرت پر کام کر رہے کم نصیب عملے اور اساتذہ کوسونپ کر دکھایا کہ حکومت تعلیمی اداروں کے بچاؤ میں کتنی سنجیدہ ہے۔عقل سے پیدل اس زعفرانی سرکار کو شاید معلوم نہیں کہ استاد صرف استاد ہوتا ہے اور چوکیدار صرف چوکیدار ۔ استاد کو چوکیدار بنانے کی افسوسناک منطق بتا رہی ہے کہ اقتدار والے اپنا ہوش وحواس کھو چکے ہیں۔ استاد کس اعزاز اور تکریم کا حق دار ہوتا ہے، اس کا شاید ہمارے حکمرانوں کو علم نہیں ۔ ہوگا بھی کیسے ؟ اسی حکومت کے زیر سایہ ایک لیکچرار کو زیر حراست جرم بے گناہی کی پاداش میںمارا گیا جب کہ سابقہ دور میں ایک لیکچر کو گرفتار کیا گیا کیوں کہ انہوں نے اپنے مر تب کردہ سوالنامے میں ظلم کے حالات میں عید منانے پر طلبہ سے مضمون لکھنے کا ایک سوال دیا تھا۔ ہمارے اساتذہ کو دورانِ کریک ڈاون مرغا بننے کا حکم ملتا ہے اور انہیں خون خوار فضا میںبچوں سے جبراََ امتحان لینے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ایسی طفلانہ اور مضحکہ خیز حرکتیں دیکھ دیکھ کر میرے ذہن میں وزیر تعلیم نعیم اختر کے وہ خوش الفاظ بیانات اکثر گردش کرتے ہیں جن میں وہ بچوں کے تئیں اپنی ہمدردی اور محبت جتا کر خود کو بڑا سادھو سنت ثابت کر تے رہے ہیں۔ میری دانست میں یہ سب کچھ دکھاوا اور جذباتی بلیک میلنگ ہے۔ بہرکیف جب تک وزیر موصوف اور حکمران جماعت تعلیمی اداروں کے تئیں اپنی منصبی ذمہ ادریوں کو ہوش گوش سے ادا نہیں کرتے تب تک تعلیمی اداروں کا خدا ہی حافظ ہے ۔ البتہ ہمیں عوامی سطح پر ہوش کے ناخن لے کر اپنی اپنی بستیوں میںتمام تعلیم گاہوں کی حفاظت کا مخلصانہ بیڑا اٹھانا چاہیے ۔ اس ضمن میں مقامی سماجی کارکن ، مساجد کمیٹیاں اور محلہ کمیٹیوں کو آگے آنا چاہیے کیونکہ کوئی بھی اسکول مودی یا محبوبہ مفتی کی ذاتی میراث نہیں بلکہ ہمارا قومی اثاثہ ہے اور اس کی دیکھ ریکھ کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ حکومت کے بھروسے پر یونہی رہ کر ہر سکول کے نذر آتش ہونے کا انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سردست علاقائی سطح پر عام شہری احسا س ذمہ داری سے لیس ہوکر تمام تعلیمی اور دوسرے اداروں کی ہر ممکن حفاظت کا فریضہ نبھائیںتاکہ قو م کا مستقبل خاکستر ہونے سے بچایا جا سکے۔
-
(12 نومبر 2016 کو کشمیر عظمی میں چھپا میرا مضمون) کشمیر میں رواں ایجی ٹیشن کے دوران جہاں بے شمار دل دہلانے والے واقعات رونما ہوئے ،وہیں نظا...
-
خوشی بھرے ماحول میں سب ہنسی مزاق میں محو تھے۔کوئی ندی کے کنارے تصویریں لے رہا تھا تو کوئی طرح طرح سے دوستوں کا منورنجن کرنے میں لگا تھا۔ می...
-
کشمیر کے موجودہ حالات کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟ (مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر) خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر ک...




