صیام کا احترام کریں!
2014 کی بات ہے۔شدید گرمی میں ماہِ صیام کا پہلا دن تھا اور میں بھوپال مدھیا پردیش میں امتحان دینے اپنے امتحانی مرکز کی طرف جا رہا تھا۔ آٹو (میجک) میں بیٹھا تو میرے ٹھیک سامنے ایک ادھیڑ عمر کی غیر مسلم عورت بیٹھی جس کی عمر غالباً چالیس پینتالیس سال رہی ہوگی۔ وہ ہاتھ میں کچھ چِپس اور ایک پانی کی بوتل لئے آٹو میں سوار ہوئی۔ میں نے ہلکی سی داڑھی رکھی تھی اور شاید کشمیریوں کی شکل تھوڑی منفرد ہے اس لئے اس عورت نے اندازہ لگایا کہ میں ایک کشمیری مسلمان ہوں۔ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا: بیٹا آپ کشمیری ہو؟
میں نے بھی اس کی بات کا مسکرا کر جواب دیا: جی میں کشمیر سے آیا ہوں۔
اس کا اگلا سوال تھا: آپ لوگوں کے آج سے روزے شروع ہوئے نا؟
میں نے سر ہلاتے ہوئے تصدیق کی۔
اب وہ روزوں کے بارے میں پوچھنے لگی تو میں بھی کھل کے بات کرنے لگا۔
اس نے پوچھا: آپ نے ابھی روزہ نہیں رکھا ہوگا کیوں کہ آپ ابھی چھوٹے ہو؟
میں نے مسکراتے ہوئے کہا : نہیں آنٹی میں روزے سے ہوں۔
میری یہ بات سن کر اسے جیسے کرنٹ لگا۔ اس نے فوراً پانی کی بوتل اور چپس اپنے ساتھ لائے بیگ میں رکھ دیے اور کافی شرمندہ ہوکر کہنے لگی : بیٹا معاف کرنا مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ روزے سے ہو اس لئے میں آپ کے سامنے ہی چپس کھا رہی تھی۔
میں کافی حیران ہوا کہ ایک غیر مسلم عورت اس بات پہ شرمندہ ہوئی کہ اس نے روزوں کا جانے انجانے میں احترام نہیں کیا جبکہ وہ اس بات کے لئے مکلف نہیں تھی۔
ماہ و سال گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے حافظے سے یہ بات نکل گئی تھی لیکن چند روز قبل ایک کشمیری مسلمان بھائی کو صیام کے دوران سرِعام دن دھاڑے سگریٹ پیتا دیکھ کر مجھے فورا وہ عورت یاد آئی۔۔۔
کاش ہم بھی اللہ کے احکام کا احترام کرنے کا جذبہ رکھتے۔
No comments:
Post a Comment