کشمیر کے موجودہ حالات
کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟
(مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر)
خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر کی زیر چوب ہلاکت نے پوری قوم کو یہاں تک کہ پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا۔ اگرچہ انکاونٹر میں یا دوسرے چھوٹے بڑے واقعات میں پولیس اہلکار کا یا فوج کے جوانوں کا ہلاک ہونا یا زخمی ہونا دہائیوں سے جاری ہے لیکن اس طرح سے لوگوں کے غصے کا شکار ہو کر کسی اہلکار کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اول الذکر ہر فرد کی یہ ذمہداری بنتی ہے کہ کسی کا بھی خون ہو یا کسی کا بھی لہو بہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ رواں ایجیٹیشن میں جوبھی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا یا جو بھی شخص حالات کی ہتھے چڑھا اس کا افسوس ہر انسانیت کی پاسداری کرنے والے شخص کوضرور ہوگا۔ لیکن یہاں کچھ سوال ضرور جنم لیتے ہیں جو جواب طلب بھی ہیں اور تشویشناک بھی۔ اسے ایک واقعے کے طور پہ دیکھیں تو اس کی فوری وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے جیسے مذکورہ اہلکار کا وہاں موجود ہو نا ، اس کا تصویر کھینچنا، اور لوگوں کے سوالات کے جواب میں پستول نکالنا وغیرہ وغیرہ ۔ اس واقعے کی فوری وجوہات کے بارے میں ہر طرف سے رائے اور قیاص آرائیاں ہو رہی ہیں ۔اکثر ٹیلی وجن چینل نے اس موضوع پر کافی مباحثے چھیڑے اور اس پر اپنے اپنے انداز میں ہر سیاسی ، سماجی، سرکاری وغیر سرکاری طبقہ ہائے فکر نے رائے زنی کی۔ یہ بات اور ہے کہ کشمیر میں عام لوگوں کے ساتھ بالعموم اور نوجوانوں کے ساتھ بالخصوص جو ظلم و بربریت کی روایت دہائیوں سے قائم ہے اس کے بارے میں لب کشائی کرنا بھارتی ٹیلی وجن چینلوں کو مناسب نہیں لگتا۔
بہر کیف یہ واحد واقعہ نہیں ہے کہ جہاں خون بہا ہو یا جہاں قتل ہوا ہو۔ کشمیر وہ خطہ ہے جہاں روز بروز کوئی نہ کوئی انہونی ضرور پیش آتی ہے۔ پھر چاہے وہ وردی پوش کی لاش گرے یا نقاب پوش کی، یا پھر عام شہری کی۔ سوال صرف اتنا نہیں ہے کہ کس کے خون پر کس کو کیا سزا ملے یا پھر کس کے خون کی تحقیقات ہوئی اور کس کی نہیں۔ بلکہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کب تک سڑکیں لال اور آنکھیں نم ہوتی رہیں گی۔ کب تک معرکہ آرائیاں ہوں گی۔ کریک ڈاون، ٹارچر اور سرچ آپریشن کے نام پر کب تک حراستی قتل ہوتے رہیں گے۔واضع رہے کشمیر میں صرف مذکورہ افسر ہی ان حالات میں نہیں مارے گئے۔ یہاں کالج لیکچرار کو فوج کی طرف سے زیر چوب مارا گیا تھا۔ یہاں ایسی ہزاروں داستانیں پہلے بھی رقم ہوچکی ہیں لیکن تب مارنے والے ہاتھ کوئی اور تھے اور مرنے والا عام کشمیری تھا۔
یہ بات نہایت تشویش ناک ہے کہ اب خون دونوں طرف سے بہہ رہا ہے۔ قاتل و مقتول دونوں ایک ہی ملت و قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ لہذا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ خون خرابہ بند کب ہوگا۔ آخر کب ایک عام شہری کے دل سے غیر یقینیت اور عدم تحفظ جیسی پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔
ٹی وی چینلز پر بھی ایسے کچھ سوالات کا جواب دینے کی کوشش ضرور کی گئی۔ اکثر مباحثوں میں حصہ لینے والے پینلسٹ اس بات پر کچھ زیادہ زور دے رہے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ سخت سے سخت سلوک کیا جائے۔ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ اب یہیں پہ بس نہیں ہوا بلکہ خود جموں کشمیر ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے لوگوں کو مزید بڑھکانے کا کام کرتے ہوئے انہیں پولس و فوج کی صبر کا امتحان نہ لینے کی صلاح دی۔ ان پینلسٹ حضرات سے یہ سوال کرنا بے جا نہ ہوگا کہ پچھلی چند دہائیوں سے یہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے کیا وہ سخت سلوک نہیں ہے؟ آپ سخت سلوک کی بات کرتے ہوئے یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ سخت روئہ تو دہائیوں سے ہی کشمیریوں کے ساتھ برتا جارہاہے، اور حاصل کیا ہوا ما سوائے لاشوں کے ڈھیر، خون آلود شب و روز اور گلی گلی سے آنے والی چیخ و پکار۔ شائد یہ بھی ایک وجہ ہے کہ لوگ عید جیسے پر مسرت تہوار کو بھی احتجاج کے ہی طور مناتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ تشدد اور سختی سے لاشوں کی تعداد بڑھانے میں ہی مدد ملے گی، چنگاری کو اور ہوا ملے گی نتیجے کے طور آگ اور بھیانک و جان لیوا ثابت ہوگی۔
ایسے واقعات کو روکنے کے لئے اور امن کی فضا قائم کرنے کے لئے دوسرا علاج جو چند سیاستدانوں نے ٹیلیوجن پہ انٹرویو کے دوران بتایا وہ ہے اعتماد سازی اور دل جیتنے کی کوششیں۔ یہ بھی سدباونا، اڈان اور سینکڑوں دیگر سکیموں و پروگراموں کی صورت میں کئی سال سے زیر عمل ہیں لیکن اس سے بھی آج تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں طریقہ کار ناکام ثابت ہوئے تو آخر کیسے اس آگ کو روکا جائے۔ در اصل یہ دونوں طریق کار اصل صورتحال سے بھاگنے اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ یہ ناسور کا علاج مرہم پٹی سے کرانے کے مترادف ہے۔
کشمیر میں غیر یقینیت و عدم تحفظ وہ بیماری ہے جس کا سرسری طور علاج کرنا لاحاصل عمل ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل مدعا سے بھاگنے کی کوشش نہ کرتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ستھر سال پہلے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ ٹی وی پر اٹوٹ انگ کے نعرے الاپنا ایک بے جا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ عوام کے مطالبات اور ان کے برسوں پرانے ہڑپ شدہ حقوق ان کو واپس ملیں۔ الیکٹرانک میڈیا سے بھی التماس ہے کہ خدارا کشمیر کا اور زیادہ تماشا نہ کریں۔ حقائق کو توڈ مروڈ کر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ کشمیر میں ہونے والے ہے چھوٹے بڑے واقعے کو پڑھوسی ملک سے جھوڑ کر عوام کے اصل مطالبات کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح کی متعصب ٹی وی اینکرنگ کرکے صحافت کے غیر جانبدارانہ ادارے کو داغدار نہ کریں۔
بہر کیف اللہ کرے کی کشمیر میں امن کی فضاء ہمیشہ کے لئے قائم ہو اور ظلم و بربریت سے نجات ملے۔
کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟
(مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر)
خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر کی زیر چوب ہلاکت نے پوری قوم کو یہاں تک کہ پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا۔ اگرچہ انکاونٹر میں یا دوسرے چھوٹے بڑے واقعات میں پولیس اہلکار کا یا فوج کے جوانوں کا ہلاک ہونا یا زخمی ہونا دہائیوں سے جاری ہے لیکن اس طرح سے لوگوں کے غصے کا شکار ہو کر کسی اہلکار کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اول الذکر ہر فرد کی یہ ذمہداری بنتی ہے کہ کسی کا بھی خون ہو یا کسی کا بھی لہو بہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ رواں ایجیٹیشن میں جوبھی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا یا جو بھی شخص حالات کی ہتھے چڑھا اس کا افسوس ہر انسانیت کی پاسداری کرنے والے شخص کوضرور ہوگا۔ لیکن یہاں کچھ سوال ضرور جنم لیتے ہیں جو جواب طلب بھی ہیں اور تشویشناک بھی۔ اسے ایک واقعے کے طور پہ دیکھیں تو اس کی فوری وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے جیسے مذکورہ اہلکار کا وہاں موجود ہو نا ، اس کا تصویر کھینچنا، اور لوگوں کے سوالات کے جواب میں پستول نکالنا وغیرہ وغیرہ ۔ اس واقعے کی فوری وجوہات کے بارے میں ہر طرف سے رائے اور قیاص آرائیاں ہو رہی ہیں ۔اکثر ٹیلی وجن چینل نے اس موضوع پر کافی مباحثے چھیڑے اور اس پر اپنے اپنے انداز میں ہر سیاسی ، سماجی، سرکاری وغیر سرکاری طبقہ ہائے فکر نے رائے زنی کی۔ یہ بات اور ہے کہ کشمیر میں عام لوگوں کے ساتھ بالعموم اور نوجوانوں کے ساتھ بالخصوص جو ظلم و بربریت کی روایت دہائیوں سے قائم ہے اس کے بارے میں لب کشائی کرنا بھارتی ٹیلی وجن چینلوں کو مناسب نہیں لگتا۔
بہر کیف یہ واحد واقعہ نہیں ہے کہ جہاں خون بہا ہو یا جہاں قتل ہوا ہو۔ کشمیر وہ خطہ ہے جہاں روز بروز کوئی نہ کوئی انہونی ضرور پیش آتی ہے۔ پھر چاہے وہ وردی پوش کی لاش گرے یا نقاب پوش کی، یا پھر عام شہری کی۔ سوال صرف اتنا نہیں ہے کہ کس کے خون پر کس کو کیا سزا ملے یا پھر کس کے خون کی تحقیقات ہوئی اور کس کی نہیں۔ بلکہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کب تک سڑکیں لال اور آنکھیں نم ہوتی رہیں گی۔ کب تک معرکہ آرائیاں ہوں گی۔ کریک ڈاون، ٹارچر اور سرچ آپریشن کے نام پر کب تک حراستی قتل ہوتے رہیں گے۔واضع رہے کشمیر میں صرف مذکورہ افسر ہی ان حالات میں نہیں مارے گئے۔ یہاں کالج لیکچرار کو فوج کی طرف سے زیر چوب مارا گیا تھا۔ یہاں ایسی ہزاروں داستانیں پہلے بھی رقم ہوچکی ہیں لیکن تب مارنے والے ہاتھ کوئی اور تھے اور مرنے والا عام کشمیری تھا۔
یہ بات نہایت تشویش ناک ہے کہ اب خون دونوں طرف سے بہہ رہا ہے۔ قاتل و مقتول دونوں ایک ہی ملت و قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ لہذا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ خون خرابہ بند کب ہوگا۔ آخر کب ایک عام شہری کے دل سے غیر یقینیت اور عدم تحفظ جیسی پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔
ٹی وی چینلز پر بھی ایسے کچھ سوالات کا جواب دینے کی کوشش ضرور کی گئی۔ اکثر مباحثوں میں حصہ لینے والے پینلسٹ اس بات پر کچھ زیادہ زور دے رہے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ سخت سے سخت سلوک کیا جائے۔ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ اب یہیں پہ بس نہیں ہوا بلکہ خود جموں کشمیر ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے لوگوں کو مزید بڑھکانے کا کام کرتے ہوئے انہیں پولس و فوج کی صبر کا امتحان نہ لینے کی صلاح دی۔ ان پینلسٹ حضرات سے یہ سوال کرنا بے جا نہ ہوگا کہ پچھلی چند دہائیوں سے یہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے کیا وہ سخت سلوک نہیں ہے؟ آپ سخت سلوک کی بات کرتے ہوئے یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ سخت روئہ تو دہائیوں سے ہی کشمیریوں کے ساتھ برتا جارہاہے، اور حاصل کیا ہوا ما سوائے لاشوں کے ڈھیر، خون آلود شب و روز اور گلی گلی سے آنے والی چیخ و پکار۔ شائد یہ بھی ایک وجہ ہے کہ لوگ عید جیسے پر مسرت تہوار کو بھی احتجاج کے ہی طور مناتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ تشدد اور سختی سے لاشوں کی تعداد بڑھانے میں ہی مدد ملے گی، چنگاری کو اور ہوا ملے گی نتیجے کے طور آگ اور بھیانک و جان لیوا ثابت ہوگی۔
ایسے واقعات کو روکنے کے لئے اور امن کی فضا قائم کرنے کے لئے دوسرا علاج جو چند سیاستدانوں نے ٹیلیوجن پہ انٹرویو کے دوران بتایا وہ ہے اعتماد سازی اور دل جیتنے کی کوششیں۔ یہ بھی سدباونا، اڈان اور سینکڑوں دیگر سکیموں و پروگراموں کی صورت میں کئی سال سے زیر عمل ہیں لیکن اس سے بھی آج تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں طریقہ کار ناکام ثابت ہوئے تو آخر کیسے اس آگ کو روکا جائے۔ در اصل یہ دونوں طریق کار اصل صورتحال سے بھاگنے اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ یہ ناسور کا علاج مرہم پٹی سے کرانے کے مترادف ہے۔
کشمیر میں غیر یقینیت و عدم تحفظ وہ بیماری ہے جس کا سرسری طور علاج کرنا لاحاصل عمل ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل مدعا سے بھاگنے کی کوشش نہ کرتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ستھر سال پہلے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ ٹی وی پر اٹوٹ انگ کے نعرے الاپنا ایک بے جا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ عوام کے مطالبات اور ان کے برسوں پرانے ہڑپ شدہ حقوق ان کو واپس ملیں۔ الیکٹرانک میڈیا سے بھی التماس ہے کہ خدارا کشمیر کا اور زیادہ تماشا نہ کریں۔ حقائق کو توڈ مروڈ کر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ کشمیر میں ہونے والے ہے چھوٹے بڑے واقعے کو پڑھوسی ملک سے جھوڑ کر عوام کے اصل مطالبات کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح کی متعصب ٹی وی اینکرنگ کرکے صحافت کے غیر جانبدارانہ ادارے کو داغدار نہ کریں۔
بہر کیف اللہ کرے کی کشمیر میں امن کی فضاء ہمیشہ کے لئے قائم ہو اور ظلم و بربریت سے نجات ملے۔

No comments:
Post a Comment