چند روز قبل بھارت کی ریاست یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی سرکار کے سو دن پورے کر لئے۔ میڈیا نے بھی اس پر چند مباحثے اور پروگرام نشر کئے۔ لیکن کل ملا کر جو اہم نقطے سامنے آئے ان سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہوگی سرکار میں اگر کسی چیز نے فروغ پایا تو وہ ہے غنڈہ گردی۔ یہ بات اگرچہ تشویشناک ضرور ہے لیکن زیادہ حیران کن نہیں ہے کیونکہ یوگی آدتیہ ناتھ کا ٹریک ریکارڈ پہلے سے ہی مشکوک رہا ہے۔ بلکہ خود یوگی پر دو ہزار سات کے فسادات میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔باریک بینی سے جائزہ لیں تو بی جے پی میں جگہ پانے کے پیچھے بھی ان کے متنازعہ بیانات و مسلم دشمن رویہ خاص طور پر کارفرما ہیں۔ بہر کیف یوگی سرکار کے دوران غنڈہ گردی کا آغاز روز اول سے ہوا جب سرکار بننے کے اگلے ہی دن یو پی کے گلی کوچوں میں پوسٹر چسپان کیے گئے جن میں مسلمانوں کو یوپی چھوڈنے کی صلاح دی گئی تھی۔ اسی دن سے یو پی میں مسلمانوں کے سکھ چین کی الٹی گنتی شروع ہوئی۔ قارئین کو یاد ہی ہوگا کہ جب یوگی نے اکھلیش سرکار کے خلاف مورچہ سنبھالا تھا تو لوگوں کے تحفظ ، اور سماج کے پچھڑے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی بازآبادکاری جیسے مسائل کویقینی بنانے کا خوب دعوے کیا گیا بلکہ ان ہی چیزوں میں اکھلیش سرکار کی ناکامی کو الیکشن مدعا بنایا گیا۔ یوگی نے ٹی وی بیان میں خود دعوے کیا تھا کہ اب عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ لیکن سرکار بننے کے بعد یوگی کی کتھنی اور کرنی میں واضع تفاوت پائی گئی۔ یوگی نے لوگوں کو تحفظ دینے کے نام پر چند ایسے اقدام اٹھائے جس سے غنڈہ گردی کو مزید ہوا ملی،جیسے انہوں نے اینٹی رومیو سکارڈ نام سے ایک تنظیم تیار کی جس کے کئی گروہ بنائے گئے۔ ان کا کام یہ بتا یا گیا کہ یہ لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو دھر دبوچ لینے کے لئے استعمال ہوں گے۔ لیکن لڑکیوں کی عزت کے محافظ بنے یہ لوگ کون ہیں،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے ان کا ویڈیو بنانے میں سب سے پہلے یہی اسکاڑ ملوث پایا گیا۔ اس گروہ میں کام کرنےوالوں میں اگرچہ پولیس کے افراد بھی شامل تھے لیکن جس طرح راہ چلتی لڑکیوں کو یہ نام نہاد اینٹی رومیو اسکارڈ پریشان و حراساں کرتا رہا وہ شاید کو ئی نامی غنڈہ بھی نہیں کر سکتا۔ وزیر اعلی یوگی کا دعوے ہے کہ اس سکارڈ سے عورت کو یو پی میں تحفظ ملا ہے۔ اس دعوے کے صحیح ہونے پر اس سے بڑا سوال کیا ہوسکتا ہے کہ اینٹی رومیو اسکارڈ کے باوجود ایک لڑکی کو جنسی زیادتی سے بچنے پر ذندہ جلایا گیا۔ وہیں دوسری طرف یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ کہیں پر بھائی بہن یا میاں بیوی بھی اگر راہ چلتے ملے تو ان کو حراساں کیا گیا۔ اور حکومت کا پورا تعاون ہونے کی وجہ سے اس گروہ کی غنڈہ گردی چلتی رہی۔ یوں کہا جائے کہ اینٹی رومیو اسکارڈ کی تشکیل دینا غنڈہ گردی کو ہوا دینے اور سڑک چھاپ موالیوں کو غنڈہ گردی کا لائسنس فراہم کرنے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے دور حکومت میں مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف سرگرم عمل تنظیمیں بھی پیچھے نہ رہی۔ گورکشا کے نام پہ قتل ہو یا دلتوں کے خلاف اتیاچار ہو ہر معاملے میں یوپی آگے رہی۔
اگر دیکھا جائے تو یہ حالات صرف یوپی میں نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں اس وقت پائے جا رہے ہیں۔ شائد اس لئے کیونکہ ہندوستان میں بی جے پی سرکار ہے جو روز اول سے ہی غنڈہ گردی، اسلام دشمنی ، اور زعفرانی کلچر کی وکالت کرتی آرہی ہے۔ چند روز قبل ہی عید الفطر کے موقعے پر یو پی کے مسلمان دوکانداروں کو یہ کہہ کر پولیس کی طرف سے حراساں کرنے کی کوشش کی گئی کہ انہوں نے عید کے موقعے پر گائے کا گوشت میسر رکھا تھا جودوکانداروں کے بقول سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ لیکن پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور کئیوں کو اسی الزام کے تحت گرفتار کیا۔ نتیجے کے طور پر دوکاندار تیش میں آئے اور معاملہ پتھراو اور احتجاج تک پہنچ گیا۔
اس طرح سے اتر پردیش میں تا حال قانون اور عوامی تحفظ کی حالت دن بہ دن تباہ ہوتی جارہی ہے اور دوسری طرف یوگی آدتیہ ناتھ اپنی حکومت کے سو دن پورے ہونے پر خوشیاں مناتے ہوئے دعوے کر رہے ہیں کہ انہوں نے عوام کے دل جیتے۔ اگر حالات یہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب یو پی کے مسلمان اور دلت یوپی ہی نہیں بلکہ بھارت چھوڈ کر چلے جائیں گے۔
یہ بلاگ محظ اس لئے تیار کیا گیا تاکہ ہم اسے وادی کے اردو اخبارات میں چھپنے والے اپنے مضامین کے ایک مجموعہ کی صورت میں استعمال کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس بلاگ میں کچھ اہم ادبی خبریں اور مضامین شائع کئے جایئں گے جو کسی دوسرے لیکھک کی تخلیق ہو۔ ہمارا مقصد اپنی بات انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا اور اردو زبان کو فروغ دینا ہے۔ شکریہ مدثر حسن مرچال زینہگیر کشمیر
Wednesday, June 28, 2017
یوگی آدتیہ ناتھ کے سو دن۔۔۔۔۔۔۔اور غنڈہ گردی کے بڑھتے قدم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
-
(12 نومبر 2016 کو کشمیر عظمی میں چھپا میرا مضمون) کشمیر میں رواں ایجی ٹیشن کے دوران جہاں بے شمار دل دہلانے والے واقعات رونما ہوئے ،وہیں نظا...
-
خوشی بھرے ماحول میں سب ہنسی مزاق میں محو تھے۔کوئی ندی کے کنارے تصویریں لے رہا تھا تو کوئی طرح طرح سے دوستوں کا منورنجن کرنے میں لگا تھا۔ می...
-
کشمیر کے موجودہ حالات کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟ (مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر) خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر ک...
No comments:
Post a Comment