Friday, June 30, 2017

بھارتی میڈیا حد درجہ متعصب


یوں تو صحافت کو جمہوریت کے ستون کا درجہ حاصل ہے۔ کسی بھی ملک کی ذہنیت اور تخیلاتی بلوغیت کی عکاسی  کرنے  اور افراد قوم و ملت کو درپیش مشکلات حکام تک پہنچانے کے لئے پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کا ایک خاص رول رہتا ہے۔ یعنی اگر یوں کہا جائے کہ صحافت سے جڑے ادارے عوام کے ترجمان ہوتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ یا دوسرے الفاظ میں کہیں تو حکومت اور رعایہ کے درمیان میڈیا ایک پل کا کام کرتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں اس معاملے کے تعلق سے بھی الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ یہاں میڈیا کو منافرت پھیلانے، عوام اور حکام کے بیچ رسہ کشی بڑھانے اور حکومت کے ہر اچھے اور برے قدم پہ بے جا واہ واہی کرنے کے لئے خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سیاسی جماعت کے ہاتھ میں حکومت کی بھاگ ڈور ہوتی ہے اسی جماعت کے پاس میڈیا کا رموٹ کنٹرول بھی ہوتا ہے۔ اگر بھارتی میڈیا کی موجودہ کارکردگی کا بغور جائزہ لیا بائے تو اس بات کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ جب سے بی جے پی سرکار بنی ہے تب سے میڈیا نے اس جماعت کا کچھ زیادہ ہی پردرشن کرنا شروع کر دیا۔ بی جے حکومت کی ہر غلطی کو حکمت عملی اور کامیاب سٹریٹجی کا نام دے کر حکومت کی تعریف میں پل باندھے جاتے ہیں۔ پھر چاہے وہ کشمیر کے عام شہری کو فوجی جیپ سے باندھنے کا معاملہ ہو یا پھر گو ہتھیا پہ حکومت کی خاموشی کا معاملہ ہو۔ ٹیلی وجن چینلوں پہ جو مباحثے منعقد ہوتے ہیں۔ وہ یا تو تعصب سے بھرپور ہوتے ہیں یا پھر نفرت کو پھیلانے کے لئے چنگاری کا کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں تو پچھلے چند سال سے مباحثے اور دیگر پروگراموں میں برقعے کا مدعا، ازان کا مدعا، تین طلاق کا مدعا اور گوماس یعنی گائے کا گوشت چھایا رہا۔ اس کے علاوہ جنتی نفرت کشمیر اور کشمیریوں کے بارے میں بھارتی میڈیا نے چند سال سے پھیلائی شاید پچھلی دہائیوں سے پیش آئے واقعات سے بھی اتنی نفرت نہیں پھیلی ہوگی۔  بھارتی ٹیلی وجن چینلوں پر نیوز اینکرس کا یہ اب ایک فیشن بن گیا ہے کہ کشمیریوں کو ہر محاظ پر غلط ثابت کرو اور پڑھوسی ملک پاکستان کو جتنا ہو سکے بدنام کرو۔ میڈیا کا یہ رول مشتبہ بھی ہے اور تشویشناک بھی۔ 
ایک طرف جہاں کشمیر میں ہونے والے پتھراو کے خلاف شعلہ بیاں اینکرنگ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے خلاف خوب ذہر اگلا جاتا ہے وہیں ٹرین میں سفر کر رہے مسلمان نوجونوں کو مار مار کر موت کے گھاٹ اتارنے پر میڈیا خاموش دکھائی دیتی ہے۔  کبھی سرجیکل سٹرائک کا ٹریلر دکھا دکھا کر بھارت میں رہہ رہے عوام کو خوش فہمی میں ڈالا جا تا ہے تو کبھی گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ بتا کر کچھ غداروں کا سہارا لیتے ہوئے کئی دن تک پروپگنڈہ کیا جاتا ہے۔ 
NEWS INDIA, ZEE NEWS,NEWS NATION اور دیگر کچھ ٹی وی چینلز پہ پاکستان، کشمیر، گو ہتھیا اور برقعے کے علاوہ کوئی دوسرا مباحثہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کم و بیش ہر مباحثے میں دین کے اصولوں کو بدلنے کی بھرپور وکالت کی جاتی ہے۔
ان صحافت سے جڑے افراد سے ہمارا صرف یہ سوال ہے کہ اگر آپ کا مزاج اتنا ہی متعصب ہے تو صحافت کی ڈگری لینے کا کیا مطلب تھا؟ صحافت میں انسان کو غیر جانبدارانہ مزاج اور عوام کی ترجمانی کا درس دیا جاتا ہے لیکن آپ نے صحافت کا مقصد ہی بدل کر اسے جانبدارانہ رنگ دے کر زنگ آلود کر دیا ہے۔ شائد اسی لئے دن بہ دن میڈیا سے لوگوں کا بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے۔ ملک کی آزادی کے ستھر سال بعد بھی اگر کوئی شعبہ ذہنی طور ایک خاص طبقئہ فکر،رنگ، نسل، ذات، برادری اور آئیڈیالوجی کا غلام ہو تو اس سے بڑے افسوس کی بات کوئی اورنہیں ہو سکتی۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی ہمت پیدا کی جائے اور رنگ، نسل، برادری اور ذات کی حدود سے بالاتر ہوکر ایک صحیح صحافی کا کردار اپنے اندر پیدا کرکے عوام کے مسائل کی ترجمانی کی جائے۔   

No comments:

Post a Comment

جعلی ‏میڈیا ‏اور ‏بلیک ‏میلنگ

بشکریہ روزنامہ کشمیر عظمیٰ سرینگر