Friday, June 30, 2017

بھارتی میڈیا حد درجہ متعصب


یوں تو صحافت کو جمہوریت کے ستون کا درجہ حاصل ہے۔ کسی بھی ملک کی ذہنیت اور تخیلاتی بلوغیت کی عکاسی  کرنے  اور افراد قوم و ملت کو درپیش مشکلات حکام تک پہنچانے کے لئے پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کا ایک خاص رول رہتا ہے۔ یعنی اگر یوں کہا جائے کہ صحافت سے جڑے ادارے عوام کے ترجمان ہوتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ یا دوسرے الفاظ میں کہیں تو حکومت اور رعایہ کے درمیان میڈیا ایک پل کا کام کرتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں اس معاملے کے تعلق سے بھی الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ یہاں میڈیا کو منافرت پھیلانے، عوام اور حکام کے بیچ رسہ کشی بڑھانے اور حکومت کے ہر اچھے اور برے قدم پہ بے جا واہ واہی کرنے کے لئے خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سیاسی جماعت کے ہاتھ میں حکومت کی بھاگ ڈور ہوتی ہے اسی جماعت کے پاس میڈیا کا رموٹ کنٹرول بھی ہوتا ہے۔ اگر بھارتی میڈیا کی موجودہ کارکردگی کا بغور جائزہ لیا بائے تو اس بات کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ جب سے بی جے پی سرکار بنی ہے تب سے میڈیا نے اس جماعت کا کچھ زیادہ ہی پردرشن کرنا شروع کر دیا۔ بی جے حکومت کی ہر غلطی کو حکمت عملی اور کامیاب سٹریٹجی کا نام دے کر حکومت کی تعریف میں پل باندھے جاتے ہیں۔ پھر چاہے وہ کشمیر کے عام شہری کو فوجی جیپ سے باندھنے کا معاملہ ہو یا پھر گو ہتھیا پہ حکومت کی خاموشی کا معاملہ ہو۔ ٹیلی وجن چینلوں پہ جو مباحثے منعقد ہوتے ہیں۔ وہ یا تو تعصب سے بھرپور ہوتے ہیں یا پھر نفرت کو پھیلانے کے لئے چنگاری کا کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں تو پچھلے چند سال سے مباحثے اور دیگر پروگراموں میں برقعے کا مدعا، ازان کا مدعا، تین طلاق کا مدعا اور گوماس یعنی گائے کا گوشت چھایا رہا۔ اس کے علاوہ جنتی نفرت کشمیر اور کشمیریوں کے بارے میں بھارتی میڈیا نے چند سال سے پھیلائی شاید پچھلی دہائیوں سے پیش آئے واقعات سے بھی اتنی نفرت نہیں پھیلی ہوگی۔  بھارتی ٹیلی وجن چینلوں پر نیوز اینکرس کا یہ اب ایک فیشن بن گیا ہے کہ کشمیریوں کو ہر محاظ پر غلط ثابت کرو اور پڑھوسی ملک پاکستان کو جتنا ہو سکے بدنام کرو۔ میڈیا کا یہ رول مشتبہ بھی ہے اور تشویشناک بھی۔ 
ایک طرف جہاں کشمیر میں ہونے والے پتھراو کے خلاف شعلہ بیاں اینکرنگ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے خلاف خوب ذہر اگلا جاتا ہے وہیں ٹرین میں سفر کر رہے مسلمان نوجونوں کو مار مار کر موت کے گھاٹ اتارنے پر میڈیا خاموش دکھائی دیتی ہے۔  کبھی سرجیکل سٹرائک کا ٹریلر دکھا دکھا کر بھارت میں رہہ رہے عوام کو خوش فہمی میں ڈالا جا تا ہے تو کبھی گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ بتا کر کچھ غداروں کا سہارا لیتے ہوئے کئی دن تک پروپگنڈہ کیا جاتا ہے۔ 
NEWS INDIA, ZEE NEWS,NEWS NATION اور دیگر کچھ ٹی وی چینلز پہ پاکستان، کشمیر، گو ہتھیا اور برقعے کے علاوہ کوئی دوسرا مباحثہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کم و بیش ہر مباحثے میں دین کے اصولوں کو بدلنے کی بھرپور وکالت کی جاتی ہے۔
ان صحافت سے جڑے افراد سے ہمارا صرف یہ سوال ہے کہ اگر آپ کا مزاج اتنا ہی متعصب ہے تو صحافت کی ڈگری لینے کا کیا مطلب تھا؟ صحافت میں انسان کو غیر جانبدارانہ مزاج اور عوام کی ترجمانی کا درس دیا جاتا ہے لیکن آپ نے صحافت کا مقصد ہی بدل کر اسے جانبدارانہ رنگ دے کر زنگ آلود کر دیا ہے۔ شائد اسی لئے دن بہ دن میڈیا سے لوگوں کا بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے۔ ملک کی آزادی کے ستھر سال بعد بھی اگر کوئی شعبہ ذہنی طور ایک خاص طبقئہ فکر،رنگ، نسل، ذات، برادری اور آئیڈیالوجی کا غلام ہو تو اس سے بڑے افسوس کی بات کوئی اورنہیں ہو سکتی۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی ہمت پیدا کی جائے اور رنگ، نسل، برادری اور ذات کی حدود سے بالاتر ہوکر ایک صحیح صحافی کا کردار اپنے اندر پیدا کرکے عوام کے مسائل کی ترجمانی کی جائے۔   

Wednesday, June 28, 2017

یوگی آدتیہ ناتھ کے سو دن۔۔۔۔۔۔۔اور غنڈہ گردی کے بڑھتے قدم


چند روز قبل بھارت کی ریاست یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی سرکار کے سو دن پورے کر لئے۔ میڈیا نے بھی اس پر چند مباحثے اور پروگرام نشر کئے۔ لیکن کل ملا کر جو اہم نقطے سامنے آئے ان سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہوگی سرکار میں اگر کسی چیز نے فروغ پایا تو وہ ہے غنڈہ گردی۔ یہ بات اگرچہ تشویشناک ضرور ہے لیکن زیادہ حیران کن نہیں ہے کیونکہ یوگی آدتیہ ناتھ کا ٹریک ریکارڈ پہلے سے ہی مشکوک رہا ہے۔ بلکہ خود  یوگی پر دو ہزار سات کے فسادات میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔باریک بینی سے جائزہ لیں تو بی جے پی میں جگہ پانے کے پیچھے بھی ان کے متنازعہ بیانات و مسلم دشمن رویہ خاص طور پر کارفرما ہیں۔ بہر کیف یوگی سرکار کے دوران غنڈہ گردی کا آغاز روز اول سے ہوا جب سرکار بننے کے اگلے ہی دن یو پی کے گلی کوچوں میں پوسٹر چسپان کیے گئے جن میں مسلمانوں کو یوپی چھوڈنے کی صلاح دی گئی تھی۔ اسی دن سے یو پی میں مسلمانوں کے سکھ چین کی الٹی گنتی شروع ہوئی۔ قارئین کو یاد ہی ہوگا کہ جب یوگی نے اکھلیش سرکار کے خلاف مورچہ سنبھالا تھا تو لوگوں کے تحفظ ، اور سماج کے پچھڑے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی بازآبادکاری جیسے مسائل کویقینی بنانے کا خوب دعوے کیا گیا بلکہ ان ہی چیزوں میں اکھلیش سرکار  کی ناکامی کو الیکشن مدعا بنایا گیا۔ یوگی نے ٹی وی بیان میں خود دعوے کیا تھا کہ اب عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ لیکن سرکار بننے کے بعد یوگی کی کتھنی اور کرنی میں واضع تفاوت پائی گئی۔  یوگی نے لوگوں کو تحفظ دینے کے نام پر چند ایسے اقدام اٹھائے جس سے غنڈہ گردی کو مزید ہوا ملی،جیسے انہوں نے اینٹی رومیو سکارڈ نام سے ایک تنظیم تیار کی جس کے کئی گروہ بنائے گئے۔ ان کا کام یہ بتا یا گیا کہ یہ لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو دھر دبوچ لینے کے لئے استعمال ہوں گے۔ لیکن لڑکیوں کی عزت کے محافظ بنے یہ لوگ کون ہیں،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے ان کا ویڈیو بنانے میں سب سے پہلے یہی اسکاڑ ملوث پایا گیا۔ اس گروہ میں کام کرنےوالوں  میں اگرچہ پولیس کے افراد بھی شامل تھے لیکن جس طرح راہ چلتی لڑکیوں کو یہ نام نہاد اینٹی رومیو اسکارڈ پریشان و حراساں کرتا رہا وہ شاید کو ئی نامی غنڈہ بھی نہیں کر سکتا۔ وزیر اعلی یوگی کا دعوے ہے کہ اس سکارڈ سے عورت کو یو پی میں تحفظ ملا ہے۔ اس دعوے کے صحیح ہونے پر اس سے بڑا سوال کیا ہوسکتا ہے کہ اینٹی رومیو اسکارڈ کے باوجود ایک لڑکی کو جنسی زیادتی سے بچنے پر ذندہ جلایا گیا۔  وہیں دوسری طرف یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ کہیں پر بھائی بہن یا میاں بیوی بھی اگر راہ چلتے ملے تو ان کو حراساں کیا گیا۔ اور حکومت کا پورا تعاون ہونے کی وجہ سے اس گروہ کی غنڈہ گردی چلتی رہی۔  یوں کہا جائے کہ اینٹی رومیو اسکارڈ کی تشکیل دینا غنڈہ گردی کو ہوا دینے اور سڑک چھاپ موالیوں کو غنڈہ گردی کا لائسنس فراہم کرنے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے دور حکومت میں مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف سرگرم عمل تنظیمیں بھی پیچھے نہ رہی۔ گورکشا کے نام پہ قتل ہو یا دلتوں کے خلاف اتیاچار ہو ہر معاملے میں یوپی آگے رہی۔  
اگر دیکھا جائے تو یہ حالات صرف یوپی میں نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں اس وقت پائے جا رہے ہیں۔ شائد اس لئے کیونکہ ہندوستان میں بی جے پی سرکار ہے جو روز اول سے ہی غنڈہ گردی، اسلام دشمنی ، اور زعفرانی کلچر کی وکالت   کرتی آرہی ہے۔  چند روز قبل ہی عید الفطر کے موقعے پر یو پی کے مسلمان دوکانداروں کو یہ کہہ کر پولیس کی طرف سے حراساں کرنے کی کوشش کی گئی کہ انہوں نے عید کے موقعے پر گائے کا گوشت میسر رکھا تھا جودوکانداروں کے بقول سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ لیکن پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور کئیوں کو اسی الزام کے تحت گرفتار کیا۔ نتیجے کے طور پر دوکاندار تیش میں آئے اور معاملہ پتھراو اور احتجاج تک پہنچ گیا۔
اس طرح سے اتر پردیش میں تا حال قانون اور عوامی تحفظ کی حالت دن بہ دن تباہ ہوتی جارہی ہے اور دوسری طرف یوگی آدتیہ ناتھ اپنی حکومت کے سو دن پورے ہونے پر خوشیاں مناتے ہوئے دعوے کر رہے ہیں کہ انہوں نے عوام کے دل جیتے۔ اگر حالات یہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب یو پی کے مسلمان اور دلت یوپی ہی نہیں بلکہ بھارت چھوڈ کر چلے جائیں گے۔

Monday, June 26, 2017

کشمیر کے موجودہ حالات

کشمیر کے موجودہ حالات
کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟
(مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر)
خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر کی زیر چوب ہلاکت نے پوری قوم کو یہاں تک کہ پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا۔  اگرچہ انکاونٹر میں یا دوسرے چھوٹے بڑے واقعات میں پولیس اہلکار کا یا فوج کے جوانوں کا ہلاک ہونا یا زخمی ہونا دہائیوں سے جاری ہے لیکن اس طرح سے لوگوں کے غصے کا شکار ہو کر کسی اہلکار کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اول الذکر ہر فرد کی یہ ذمہداری بنتی ہے کہ کسی کا بھی خون ہو یا کسی کا بھی لہو بہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ رواں ایجیٹیشن میں جوبھی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا یا جو بھی  شخص حالات کی ہتھے چڑھا اس کا افسوس ہر انسانیت کی پاسداری کرنے والے شخص کوضرور ہوگا۔  لیکن یہاں کچھ سوال ضرور جنم لیتے ہیں جو جواب طلب بھی ہیں اور تشویشناک بھی۔ اسے ایک  واقعے کے طور پہ دیکھیں تو اس کی فوری وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے جیسے مذکورہ اہلکار کا وہاں موجود ہو نا ، اس کا تصویر کھینچنا، اور لوگوں کے سوالات کے جواب میں پستول نکالنا وغیرہ وغیرہ ۔ اس واقعے کی فوری   وجوہات   کے بارے میں  ہر طرف سے رائے اور قیاص آرائیاں ہو رہی ہیں ۔اکثر ٹیلی وجن چینل نے اس موضوع پر کافی مباحثے چھیڑے اور اس پر اپنے اپنے انداز میں ہر سیاسی ، سماجی، سرکاری وغیر سرکاری طبقہ ہائے فکر نے رائے زنی کی۔ یہ بات اور ہے کہ کشمیر میں عام لوگوں کے ساتھ بالعموم اور نوجوانوں کے ساتھ بالخصوص جو ظلم و بربریت کی روایت دہائیوں سے قائم ہے اس کے بارے میں لب کشائی کرنا بھارتی ٹیلی وجن چینلوں کو مناسب نہیں لگتا۔
 بہر کیف یہ واحد واقعہ نہیں ہے کہ جہاں خون بہا ہو یا جہاں قتل ہوا ہو۔ کشمیر وہ خطہ ہے جہاں روز بروز کوئی نہ کوئی انہونی ضرور پیش آتی ہے۔  پھر چاہے وہ وردی پوش کی لاش گرے یا نقاب پوش کی، یا پھر عام شہری کی۔ سوال صرف اتنا نہیں ہے کہ کس کے خون پر کس کو کیا سزا ملے یا پھر کس کے خون کی تحقیقات ہوئی اور کس کی نہیں۔ بلکہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کب تک سڑکیں لال اور آنکھیں نم ہوتی رہیں گی۔ کب تک معرکہ آرائیاں ہوں گی۔ کریک ڈاون، ٹارچر اور سرچ آپریشن کے نام پر کب تک حراستی قتل ہوتے رہیں گے۔واضع رہے کشمیر میں صرف مذکورہ افسر ہی ان حالات میں نہیں مارے گئے۔ یہاں کالج لیکچرار کو فوج کی طرف سے زیر چوب مارا گیا تھا۔ یہاں ایسی ہزاروں داستانیں پہلے بھی رقم ہوچکی ہیں لیکن تب مارنے والے ہاتھ کوئی اور تھے اور مرنے والا عام کشمیری تھا۔
 یہ بات نہایت تشویش ناک ہے کہ اب خون دونوں طرف سے بہہ رہا ہے۔ قاتل و مقتول دونوں ایک ہی ملت و قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔  لہذا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ  یہ خون خرابہ بند کب ہوگا۔ آخر کب ایک عام شہری کے دل سے غیر یقینیت اور عدم تحفظ جیسی پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔
ٹی وی چینلز پر بھی ایسے کچھ سوالات کا جواب دینے کی کوشش ضرور کی گئی۔ اکثر مباحثوں میں حصہ لینے والے پینلسٹ اس بات پر کچھ زیادہ زور دے رہے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ  سخت سے سخت سلوک کیا جائے۔ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ اب یہیں پہ بس نہیں ہوا بلکہ خود جموں کشمیر ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے لوگوں کو مزید بڑھکانے کا کام کرتے ہوئے انہیں پولس و فوج کی صبر کا امتحان نہ لینے کی صلاح دی۔   ان پینلسٹ حضرات سے یہ سوال کرنا بے جا نہ ہوگا کہ پچھلی چند دہائیوں سے یہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے کیا وہ سخت سلوک نہیں ہے؟ آپ سخت سلوک کی بات کرتے ہوئے یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ سخت روئہ تو دہائیوں سے ہی کشمیریوں کے ساتھ برتا جارہاہے، اور حاصل کیا ہوا ما سوائے لاشوں کے ڈھیر، خون آلود شب و روز اور گلی گلی سے آنے والی چیخ و پکار۔  شائد یہ بھی ایک وجہ ہے کہ لوگ عید جیسے پر مسرت تہوار کو بھی احتجاج کے ہی طور مناتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ تشدد اور سختی سے لاشوں کی تعداد بڑھانے میں ہی مدد ملے گی، چنگاری کو اور ہوا ملے گی نتیجے کے طور آگ اور بھیانک و جان لیوا ثابت ہوگی۔
      ایسے واقعات کو روکنے کے لئے اور امن کی فضا قائم کرنے کے لئے دوسرا علاج جو چند سیاستدانوں نے ٹیلیوجن پہ انٹرویو کے دوران بتایا وہ ہے اعتماد سازی  اور دل جیتنے کی کوششیں۔ یہ بھی سدباونا، اڈان اور سینکڑوں دیگر سکیموں و پروگراموں کی صورت میں کئی سال سے زیر عمل ہیں لیکن اس سے بھی آج تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں طریقہ کار ناکام ثابت ہوئے تو آخر کیسے اس آگ کو روکا جائے۔ در اصل یہ دونوں طریق کار اصل صورتحال سے بھاگنے اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ یہ ناسور کا علاج مرہم پٹی سے کرانے کے مترادف ہے۔
کشمیر میں غیر یقینیت و عدم تحفظ  وہ بیماری ہے جس کا سرسری طور علاج کرنا لاحاصل عمل ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل مدعا سے بھاگنے کی کوشش نہ کرتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ستھر سال پہلے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ ٹی وی پر اٹوٹ انگ کے نعرے الاپنا ایک بے جا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ عوام کے مطالبات اور ان کے برسوں پرانے ہڑپ شدہ حقوق ان کو واپس ملیں۔ الیکٹرانک میڈیا سے بھی التماس ہے کہ خدارا کشمیر کا اور زیادہ تماشا نہ کریں۔ حقائق کو توڈ مروڈ کر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ کشمیر میں ہونے والے ہے چھوٹے بڑے واقعے کو پڑھوسی ملک سے جھوڑ کر عوام کے اصل مطالبات کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح کی متعصب ٹی وی اینکرنگ کرکے  صحافت کے غیر جانبدارانہ ادارے کو داغدار نہ کریں۔
بہر کیف اللہ کرے کی کشمیر میں امن کی فضاء ہمیشہ کے لئے قائم ہو اور ظلم و بربریت سے نجات ملے۔

Monday, June 5, 2017

مدارس کی آگ ذنی میں کس کا ہاتھ

(12 نومبر 2016 کو کشمیر عظمی میں چھپا میرا مضمون)
کشمیر میں رواں ایجی ٹیشن کے دوران جہاں بے شمار دل دہلانے والے واقعات رونما ہوئے ،وہیں نظام تعلیم پر بھی اُفتاد پڑی ۔ا س بنا پر طلبہ نے نامساعد حالات کے سبب بہت کچھ کھودیا۔ اب اسکولوں کی آگ زنیاں ہورہی ہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم میں انقلاب وتغیر کی ہوائیں چلیں تو نوجوانوں خاص کر طلبہ وطالبات نے ہراول دستے کاکام دیا اور تعلیم کدوں نے انقلاب کی کامیابی میں اپنا خصوصی رول ادا کیا ۔ دنیا کا ہر باشعور اور مہذب انسان مانتا ہے کہ تعلیمی ادارہ کسی بھی قوم یا ملت کا ایک بیش قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ ان سے قوموں کی تقدیریں بدل سکتی ہیں بشر طیکہ نظام ِتعلیم اور نظر یۂ تعلم دُرست ہو۔ کشمیری قوم بہت خوش قسمت ہے کہ چرب دست و تردماغ ہو نے کے ناطے یہ تعلیم وتدریس اور خواندگی کو قدر ومنزلت کا مقام دیتی چلی آئی ہے ۔ا س نے غلامی ا ور محکومی کے دور ِ ظلمت میں بھی اپنی اس فطری خصوصیت کا قدم قدم پر ثبوت پیش کیا اور مثالیں بنائیں مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے وادیٔ کشمیر میں جس انداز سے نامعلوم بدخواہوں کے ہاتھوں تعلیمی اداروں کو خاکستر کرنے کا سنسنی خیز سلسلہ جاری ہے ،وہ اہل دانش اور ذی فہم افراد کو انگشت بہ دنداں ہونے پر مجبور کردیتا ہے۔ان صدمہ خیز واقعات پر جہاں ریاست کے باشعور طبقات دکھ اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور مزاحمتی لیڈرشپ سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پُر زور الفاظ میں اس شیطانیت کی مذمت کر ر ہے ہیں، وہیں ریاستی حکومت بھی بر وزن ِ شعر اس صورت حال پر اپنی چنتا ظاہر کررہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کون کر رہاہے ؟ کس کے اشارے پر کر رہاہے؟ کیوں کر رہاہے؟ اساتذہ ، طلباء، والدین اور ہر ہوش مند وخردمند نہایت ہی افسردگی اور بے بسی کے ساتھ یہ سوال اٹھارہاہے کہ آخر کون ہے جو ان بیش قیمت اثاثوں کو خاک میں ملا رہاہے ۔ یہ تو وہ جانتا ہے کہ کشمیری قوم کو قبروں میں اتارنے سے کون کون لطف اٹھارہاہے مگر سکول جلاکر قوم کو خواندگی کے نور سے محروم کر دینے والے کون ہیں ،ا س کا لوگوں کو علم نہیں ۔ یہ جو کوئی ہو کم ازکم یہ اہل کشمیر کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا ۔ گولیوں سے نوجوانوں کو چھلنی کر نے ، چھروں سے بچوں تک کی بینائیاں چھین لینے اور قوم کو مفلوج کر نے والے لوگ کون ہیں اورا ُن کے برے عزائم کیا ہیں ، یہ سب ہم پر واضح ہے مگر تعلیمی اداروں کو جلانے والوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہورہی جو کہ ہنوز ایک معمہ ہے ۔ اس بارے میں جو سوالات اٹھ رہے ہیں ،ان کا تشفی بخش جواب نہ عام لوگوں کے پاس ہے ، نہ سیاسی قیادت کے پاس اور نہ ہی ہمدردی اورسنجیدگی سے عاری حکومتی عہدیداروں کے پاس۔ اس لئے ہم سب کے پاس اگر کچھ ہے تو محض واویلا اور تاسف وتعجب۔ ان سوالوں کی گھتی اپنی جگہ ا لبتہ حکومت کا اساتذہ اور استانیوں پر اسکولوں کی شب وروز رکھوالی ا ور چوکیداری کی ذمہ داری عائد کر نا ایک مضحکہ خیز اقدام ہونے میں دورائے نہیں۔ یہ کام پولیس کے دائرہ ٔ اختیار میں آتا ہے کہ وہ شرپسندوں سے اسکولوں کو بچائیں نہ کہ بچارے ٹیچروں کا۔ اگر پولیس والے پنڈت بستیوں کی رکھوالی پر مامور ہیں تو اسکولوں کی رکھوالی پر کیوں تعینات نہیں کئے جاسکتے ؟ اس سے پھر پتہ چلتا ہے کہ حکومت اسکولوں کے بچاؤ میںکوئی خاطرخواہ دفاعی اقدام نہ کر نے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے۔ چونکہ حکومت نے سوائے سینہ کوبی کے عملاًکچھ بھی نہ کیا،نتیجہ یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے اسکول نذر آتش ہو رہے ہیں۔ ہمارے کرم فرما حکمرانوں نے تعلیمی اداروں کو بچانے کا کام  Contengency Paid Workersجیسے قلیل اُجرت پر کام کر رہے کم نصیب عملے اور اساتذہ کوسونپ کر دکھایا کہ حکومت تعلیمی اداروں کے بچاؤ میں کتنی سنجیدہ ہے۔عقل سے پیدل اس زعفرانی سرکار کو شاید معلوم نہیں کہ استاد صرف استاد ہوتا ہے اور چوکیدار صرف چوکیدار ۔ استاد کو چوکیدار بنانے کی افسوسناک منطق بتا رہی ہے کہ اقتدار والے اپنا ہوش وحواس کھو چکے ہیں۔ استاد کس اعزاز اور تکریم کا حق دار ہوتا ہے، اس کا شاید ہمارے حکمرانوں کو علم نہیں ۔ ہوگا بھی کیسے ؟ اسی حکومت کے زیر سایہ ایک لیکچرار کو زیر حراست جرم بے گناہی کی پاداش میںمارا گیا جب کہ سابقہ دور میں ایک لیکچر کو گرفتار کیا گیا کیوں کہ انہوں نے اپنے مر تب کردہ سوالنامے میں ظلم کے حالات میں عید منانے پر طلبہ سے مضمون لکھنے کا ایک سوال دیا تھا۔ ہمارے اساتذہ کو دورانِ کریک ڈاون مرغا بننے کا حکم ملتا ہے اور انہیں خون خوار فضا میںبچوں سے جبراََ امتحان لینے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ایسی طفلانہ اور مضحکہ خیز حرکتیں دیکھ دیکھ کر میرے ذہن میں وزیر تعلیم نعیم اختر کے وہ خوش الفاظ بیانات اکثر گردش کرتے ہیں جن میں وہ بچوں کے تئیں اپنی ہمدردی اور محبت جتا کر خود کو بڑا سادھو  سنت ثابت کر تے رہے ہیں۔ میری دانست میں یہ سب کچھ دکھاوا اور جذباتی بلیک میلنگ ہے۔ بہرکیف جب تک وزیر موصوف اور حکمران جماعت تعلیمی اداروں کے تئیں اپنی منصبی ذمہ ادریوں کو ہوش گوش سے ادا نہیں کرتے تب تک تعلیمی اداروں کا خدا ہی حافظ ہے ۔ البتہ ہمیں عوامی سطح پر ہوش کے ناخن لے کر اپنی اپنی بستیوں میںتمام تعلیم گاہوں کی حفاظت کا مخلصانہ بیڑا اٹھانا چاہیے ۔ اس ضمن میں مقامی سماجی کارکن ، مساجد کمیٹیاں اور محلہ کمیٹیوں کو آگے آنا چاہیے کیونکہ کوئی بھی اسکول مودی یا محبوبہ مفتی کی ذاتی میراث نہیں بلکہ ہمارا قومی اثاثہ ہے اور اس کی دیکھ ریکھ کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ حکومت کے بھروسے پر یونہی رہ کر ہر سکول کے نذر آتش ہونے کا انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سردست علاقائی سطح پر عام شہری احسا س ذمہ داری سے لیس ہوکر تمام تعلیمی اور دوسرے اداروں کی ہر ممکن حفاظت کا فریضہ نبھائیںتاکہ قو م کا مستقبل خاکستر ہونے سے بچایا جا سکے۔

Saturday, June 3, 2017

تفریح جو یاد رہے گی

خوشی بھرے ماحول میں سب ہنسی مزاق میں محو تھے۔کوئی ندی کے کنارے تصویریں لے رہا تھا تو کوئی طرح طرح سے دوستوں کا منورنجن کرنے میں لگا تھا۔ میں ندی کے کنارے بیٹھے اپنے دوستوں کی تصویر لینے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک میرے کانوں سے زور زور کی آوازیں ٹکرانے لگیں۔ کوئی مجھے  جلدی نیچے بیٹھنے کے لئے آواز دے رہا تھا۔اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا میں نے زمین کے ہلنے کو محسوس کیا، یہ اندازہ لگانا اب مشکل نہ تھا کہ مجھے اس لئے نیچے بیٹھنے کو کہا جا رہا تھا کہ زلزلہ  ہو رہا تھا۔ دور بستیوں سے چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ زمین کے ہلنے میں شدت پیدا ہونے لگی۔پانی بھی زلزلے کی وجہ سے حرکت کرنے لگا تھا۔ سب دوست جو ابھی تک ہنسی مزاق میں محو تھے اب حواس   باختہ نظر آنے لگے۔ ابھی تک جو پیڑ پودے تفریع کے سامان بنے تھے اب ان پیڑ پودوں سے ڈر لگنے لگا۔ پانی گویا خوبصورت سے خوفناک ہونے لگا۔در اصل ان چیزوں میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ ان کو دیکھنے کا نظریہ گویا بدل گیا۔ بہر کیف سب کو اپنے احباب کی فکر ہونے لگی۔زلزلہ جیسے تیسے رک گیا۔ اور ہم سب اپنے اپنے گھر رابطہ کرنے لگے جو اب نہیں ہو پا رہا تھا۔ فون سروس کچھ دیر کے لئے بند ہو گئی تھی۔  ہم اندازہ لگانے لگے کہ اس کی شدت 6۔8 کے آس پاس ہوگی جو اندازہ بالآخر صحیح ثابت ہوا۔کچھ وقت کے لئے ہر شخص کو کلمہ پڑھتے دیکھا،کسی کو قرآن کی تلاوت کرتے سنا گویا اب دنیا بدل گئی تھی۔ گویا زندگی سدھر گئی تھی،مزاج مومنانہ سا ہو گیا تھا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد جب خطرہ ٹل گیا تو پھر سے وہی فریب،دھوکہ دہی، موقعہ پرستی اور زر پرستی کا کاروبار  شروع ہوگیا ۔  

افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چہرا کہ مٹائے نہیں مٹتا۔

چائے کی گرم چسکیاں لیتے ہوئے بھی وہ چہرہ گویا میری نظروں کے سامنے ہی تھا۔ میری اداسی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔  پریشانی کا یہ عالم تھا کہ میں اپنے آنکھوں کی نمی تک نہ چھپا سکا۔ چشم تر نے میری افسردگی کا راز عیاں کر دیا۔  وہ  چہرہ جس کی جھریاں  صدیوں کی کہانی بیاں کر رہے تھے۔ جس کے کمزور جسم سے عمر بھر کی جی توڑ محنت کی کہانی بیاں ہو رہی تھی۔ کانپتے ہوئے ہاتھ اور نیم کھلی آنکھیں بار بار یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اب اس ضعیف العمر خاتون کو سہارا چاہئے تھا۔ اب اپنے آپ اس خاتون ستم ذدہ سے نہ اٹھا جارہا تھا اور نہ بیٹھا جا رہا تھا۔ میری آنکھوں میں وہ منظر بار بار آکر میرے ذہن و دل کو جھنجھوڑ رہا تھا کہ جب وہ خاتون سڑک کے کنارے کسی حادثے کی شکار ہوئی تھی اور ہاتھ میں رکھی دوائی کی بوتل ٹوٹی ہوئی تھی۔اس وقت اس کی آنکھوں میں جو آنسو تھے وہ کسی بھی مرد ہوشمند کے دل کو تیزاب کی طرح ریزہ ریزہ کر سکتے تھے پھر میں کیا چیز تھا۔ میں نے دریافت کیا کہ آخر اس خاتون کے بچے کہاں تھے تو معلوم ہوا کہ اس کے بچوں نے اس دنیا کو خیر باد کہہ کر اپنی بوڑھی ماں کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ موت کے سامنے آخر کس کی چلتی ہے۔ اس کے بچوں کو موت پہلے آئی یہ تعجب کی بات نہ تھی لیکن اس قوم کی نوجوان نسل بھی کیا موت کے آغوش میں چلی گئی تھی کہ جو اس خاتون کا اس بھری دنیا میں بھی کوئی سہارا نہ تھا۔

ماں کا آنچل

ماں کاآنچل
قدرت کی اعلیٰ نعمت ماں باپ کی محبت
مدثر حسن مرچال
 کیو ں ہر صبح گھر سے مضطرب ہوکر دن بھر کے لئے کہیں دور بھاگتا ہوں؟ کیوں ہر شام گھر لوٹتے ہوئے روحانی مسرت سی لگتی ہے؟ کیوں دوستوں کی محفل نہ چاہتے ہوئے چھوڑ کر گھر کی یاد آتی ہے؟ کیوںکوئی انجان ڈور گھر کی اور کھینچ لیتی ہے؟ کیوںگھر پہنچتے ہی دم سنبھلنے لگتاہے ، خیالات میں ٹھہراو ¿، جذبات میں ثبات کی کیفیت درآتی ہے ؟ میںیہ سوالات اپنے آپ سے اکثر تنہائی میں پوچھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ تب خیالوں میں تلاطم پیدا ہوتا ہے ، دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو جاتی ہیں۔عین اسی وقت ایک چہرا دُھندلا سا سامنے آتا ہے اور نہایت ہی درد بھری آواز میں مجھ سے ہم کلام ہو کر میری اُلجھنوں کے جواب میں کہتا ہے۔۔۔ میں ہوںتجھ پر مامتا بھری شفقت کاسائبان ، یہ میرے ہی آنسوﺅں کا صلہ ہے جو تمہیں اس آشیانے سے دور نہیں ہونے دیتا۔تم جس چہرے کو دیکھنے کے ا شتیاق میں روز شام کو گھر لوٹ کر اپنی تھکن دور کرتے ہو وہ میرا ہی چہرہ ہے،تم جس وجود کی آغوش میں اپنا تھکاماندہ سر رکھ کر آرام کی نیند سوجاتے ہو، وہ ماں میں ہوں ۔ یہ میٹھی مدھر آواز سن کر میرااضطراب بڑھنے لگتا ہے اور یہ مامتا بھرا چہرہ باربار دیکھنے کی آرزو جاگ اُٹھتی ہے ۔ اتنے میں ایک ہوا کے جھونکے سے یہ چہرہ عیاں ہو جاتا ہے تو اس میں صرف ماں کی بے لوث مامتا کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ہاں! یہ وہی چہرہ ہے جس کی جھریوں میں وہ داستانیں چھپی ہیں ،جو دردناک بھی ہیں اور نم ناک بھی۔ ان جھریوں سے ہر وہ داستاں بیاں ہوتی ہے جو وقت کے ظالم لمحات نے اس فرشتہ صفت خاتون کی زندگی میں رقم کر رکھی ہیں۔ وہ فاقہ کش راتیں، وہ مشقت بھری صبحیں،وہ وحشتوں کا دور اور بے چین آرزوﺅں کا عالم اور ہر درد کی سلوٹ اس چہرے کی آینئہ دار ہے۔اتنے میںجب شعور کی آنکھ وا ہوتی ہے اور احتساب کا دروازہ کھلتا ہے تو اپنے آپ کو پسینے میں شرابور پاتا ہوں ۔اپنی ذ مہ داریوں کا احساس ڈسنے لگتا ہے، کچھ ایسا کرنے کا من بناتا ہوں مامتا کے آنچل کا قرضہ اُتار نے کے لئے اورمجھ پر پوری زندگی نچھاور کرنے والے اس نورانی وجودکا خادم بن جاﺅں ، اس کی ہر شکایت کاازالہ کروں، اس کے ہر غم کی دوا بنوں،لیکن پل بھر میں سب بدل جاتا ہے کیونکہ میں تیزگام زندگی کی کئی اور اُلجھنوں میں اٹک جاتا ہوں ۔صبح سویرے آفس کا رُخ کر کے پھر سے اسی سلسلہ ¿روز وشب کا غلام ہوجاتا ہوں، کشمکش ِ زندگانی کے بھنور میںکھو جاتاہوں جو برسوں سے میرا معمول بناہوا ہے۔بالآخر ایک ملازم ، ایک بیٹے، اور سماج کے ایک فرد جیسے کرداروں کی تقسیم میں بٹ جاتا ہوں، بکھر جاتاہوں کہ ماں کا سایہ ہی مجھے میری وجود کو قفس عنصری میں سمیٹ لیتاہے۔
یہ کہانی کسی ایک فرد کی نہیں ہے بلکہ شاید ہر اُس شخص کی ہے جو دُنیا کی خوش حالیاں بٹورنے کی جستجو میں ہمہ وقت لگا رہتا ہے مگر ساتھ خواہی نہ خواہی ان نرم ونازک اور مقدس رشتوں کو فراموش کرجاتاہے جو اس کی زندگی کو ایک معنویت اور مقصدیت عطاکر تے ہیں۔ خصوصی طورجس عورت کی کوکھ سے ہم نے جنم لیا، جس نے اپنی زندگی کی خوشیاں ہم پر بلا معاوضہ خو شی خوشی لٹادیں ، جس نے ہمیں اپنی اَرمانوں میں بسایا، اُسے خوشی اور مسرت کی چند گھڑیاں دینے کے لئے شاید قوم کے کسی مشغول بیٹے کے پا س وقت نہیں، مہلت نہیں ،فکر نہیں ، خندہ پیشانی نہیں ، خوشی اور دل لگی کے دوبول نہیں۔ نہ اس باپ کے ساتھ وقت گزارنے کا ہمارے پاس کوئی فرصت کا لمحہ ہوتاہے جس نے ہماری ضروریاتِ زندگی کے لئے اپنی ضرورتوں کو نظرانداز کیا ہوتاہے۔
 ایسا کیوں ہے کہ ماں باپ کو خوشحال رکھنے کی باری آتے ہی ہمیں کیوں دنیا وی منصب ، ذمہ داریاں اور تھکادینے والی مشغولیات کی ساری فہرست یاد آتی ہے؟حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کی خوشی کے لئے یہ سب مصروفیات اور دلچسپیاں یک لخت قربان کی جائیں کیونکہ ماں ہی وہ ذات ِگراں مایہ ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے، جس کی طرف ایک مسکراتی نظر ڈالنا عین عبادت ہے ، جو اپنے ہر بچے کی راحت وآرام کی خاطر خود کو ہرمصیبت میں ڈالنے سے گریز نہیں کر تی ، جوراتوں کی نیندیں رضاکارانہ طور تج دیتی ہے، دن کا آرام چھوڑ دینے پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کر تی ، بچوں کی پرورش وپرداخت کو ہر چیز پر اولین ترجیح دینے کو اپنا فخر جتاتی ہے، ہر طرح کے فرائض کا بوجھ اُٹھاتی ہے،اپنے بچے کے دُکھ درد کو کم کرنے کی غرض سے اپنا درد بھلا دیتی ہے۔آج اس کے تئیں جب ہماری ذمہ داریوں کا وقت آن پہنچا تو ہم پیچھے کیسے ہٹ جاتے ہیں؟ اور طرفہ تماشہ پھر بھی میں اولاد سے گلہ نہیں کرتی ،شکوہ نہیں کر تی مجھے چھوڑ کے مت جاو ¿،زیادہ سے زیادہ اپنی قسمت کو کوستی ہے ، زمانے کی گردش پر سارا دوش ڈالتی ہے ، سماجی قدروں کی ٹوٹ پھوٹ کا رونا روکر اپنے بچوں بچےوں کی لاج رکھتی ہے ،ا ن کی بے وفائیوں کی پردہ پوشی کر تی ہے لیکن بدلے میں یہ کیاپاتی ہے ؟ آج جہاں بھی دیکھئے انسان دُنیوی اُلجھنوں میں پڑ کر رشتوں کی اہمیت کو بھول چکا ہے ۔اسی بھاگم دوڑ نے اولڈ ایج ہومز کو مغرب ومشرق میں جنم دیا جہاں سنتان سے مالامال بوڑھے ماں باپ زندگی کے آخری دن گزارنے کے لئے کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دئے جاتے ہیں بلکہ سچ پوچھئے تو ان قریب المرگ ضعیفوں کو غیروں کے رحم و کرم پر ڈالا جاتا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک ہماری وادی میں رسماً ایسے ہومزکا زیادہ رُجحان نہیں مگر بہ نظر غائر دیکھا جائے توہمارے اکثر گھرہی اولڈ ایج ہومز میں بدل چکے ہیں ۔ بہر صورت وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب بزرگ ماں باپ کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ہر ممکنہ طریقے پر اپنے فرائض کو انجام دینے میں مخلصانہ کاوشیں کریں تاکہ سماج میں اخلاقی بحران ، رشتوں میں افرا تفری دورہو اور ہمارے گھرسکون واطمینان اور زینت وزیبائش کا گہوارہ بن جائیں۔ایک بہترین اُستاد، بہترین ڈاکٹر، بہترین انجی ¿نیراور بہترین افسر ، دانشورو قلم کارہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا بیٹا اچھی بیٹی بننے کا شرف بھی حاصل کیجئے۔
رابطہ :ہردوشیواہ ۔۔۔ زینہ گیر سوپور
9906607520
 (کالم :-کشمیر عظمی)

Friday, June 2, 2017

بلند حوصلے

بچوں کے چہرے پر اداسی اور پریشانی صاف طور پہ جھلک رہی تھی۔  وہ خاموش تھے لیکن ان کی خاموشی اپنے آپ میں بہت کچھ کہہ رہی تھی۔  ابھی حالات کچھ زیادہ خراب نہیں تھے۔ لہذا میں نے بچوں کی اس پریشانی اور ان کے اس ڈر کو اندیکھا کرتےہوئے اپنا لیکچر شروع کر دیا۔ ابھی لیکچر شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک باہر سے دوبارہ ایک زبردست شور سنائی دیا۔ یہ شور نعرے بازی، اور چیخ و پکار کا تھا۔ حالانکہ نعرے بازی اور دھرنا کا سلسلہ قریبا ایک گھنٹے سے جاری تھا لیکن اس بار اس میں شدت آنے لگی۔ میں کھڑکی سے باہر کا وہ نظارہ دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ باہر کا نظارہ کسی بھی انسان کو خوف زدہ کر دینے والا تھا۔  لہذا بچوں کا خوفزدہ ہو جانا لازم بات ہے۔ اسکول کے صدر دروازے پر ماحول نہایت تناو بھرا تھا۔ میں نے مڈ کر کلاس میں موجود بچوں کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں پرنم تھیں۔ وہ حواس باختہ اور ڈرے ہوئے تھے۔  ان کا ڈر اس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ اب اپنی نشستوں پر بھی نہیں تھے۔ وہ سہمے ہوئے تھے۔  اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ پاتا چند بچے رونے لگے۔ اگرچہ سبھی بچے پریشان اور الجھے ہوئے تھے  لیکن اکثر بچوں نے اپنے آنسوںوں پر اور اپنے ڈر پہ قابو پانے کی ایک نامکمل سی کوشش کی۔ یہ ڈر لازم بھی تھا کیوںکہ صدر دروازے پہ جس انداز سے دھرنے پر بیٹھے لوگ غم و غصے کا اظہار کر رہے تھے  چند ہی لمحوں میں ان کا ادارے میں داخل ہونا ممکن تھا۔ اور اسکول کے اندر کا ماحول بھی بگڑھ سکتا تھا۔  در اصل یہ احتجاج قصبے میں قائم کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ طلباء کا تھا جو حکومت کی طرف سے ہونے والے تشدد اور زیادتیوں کے خلاف صدائے آواز بلند کر رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کے گرفتار شدہ ہم جماعتیوں اور دوستوں کو رہا کیا جائے۔ ظاہر سی بات ہے کہ وہ احتجاجی طلباء چاہتے تھے کہ ہمارے ادارے سے بھی بچے نکل کر ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اب اسکول کی انتظامیہ نے جب بچوں کے تحفظ کا اور والدین کے بھروسے کا لحاظ کرتے ہوئے معزری ظاہر کی تو احتجاجی طلباء تیش میں آئے۔ ادارے کی انتظامیہ حق بہ جانب قدم اٹھا رہی تھی لیکن دوسری طرف احتجاجی طلباء کے مطالبے کو بھی غلط نہیں مانا جاسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ احتجاجی طلبہ اسکول گیٹ پر احتجاج کے طور دھرنے پہ بیٹھے تھے اور بیچ بیچ میں ادارے میں داخل ہونے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ اسی بیچ جب نیم فوجی دستے کی گاڈیاں جو پہلے سے ہی احتجاجیوں کے تعاقب میں تھی ان کی طرف بڑھنے لگیں تو پتھراو کی شروعات ہوئی۔  اس سے ڈر اور خوف میں اظافہ ہوا۔ بلکہ اسکول کے چند شیشے بھی چکنا چور ہوئے۔  
بہر کیف بچوں کے اس ڈر کو کیسے دور کیا جائے اس کے لئے مجھ سے جو بن پایا میں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لگ بھگ سبھی اساتذہ اپنی اپنی کلاسوں میں اسی طرح کی  پریشانیوں سے جوجھ رہے تھے۔  میں نے اول تو بچوں کو خوب دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے لیکن سب بے کار۔ اس کا تو یوں اثر ہوا کہ بچے اور زیادہ زور زور سے رونے لگے۔ اب بچوں کو ڈانٹنا بھی غلط تھا۔ لہذا میں لگ بھگ ناکام ہوا۔ اتنے میں ایک معصوم سی بچی جو کہ اکثر مجھ سے اچھے خاصے سوالات پوچھا کرتی تھی  کہنے لگیں کہ  وہ کلاس  کی باقی بچیوں کو دلاسہ دینے اور انہیں اس ڈر سے باہر نکالنے کے لئے میری مدد کرنا چاہتی ہیں۔  میں اول تو حیران ہوا لیکن پھر جلد ہی اس نتیجے پہ پہنچا کہ میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ بچیوں کو کسی طرح اس ڈر سے نکالنا تھا اس لئے میں نے اس بچی کی اس پیشکش کو منظور کر لیا۔ یہ شاید پہلی بار تھا کہ میں کسی بچے سے مدد لے رہا تھا۔ بہر کیف جانے ان جانے میں شاید میں نے بر وقت ایک صحیح قدم اٹھایا۔ یا یوں کہیں کہ اس بچی نے عین وقت ایک بہترین پیشکش کی۔  وہ لڑکی جب کلاس میں سب کے سامنے کھڑی ہوئی تو مجھے یوں لگا جیسے وہ ایک تجربہ یافتہ استاد ہو۔ اس نے بچیوں کو کچھ پہیلیاں پوچھ پوچھ کے ذہنی طور مصروف رکھنے کی کوشش کی۔ اس سے ہوا یہ کہ باقی بچیوں نے جب اپنے ہی اندر کی ایک اپنی جیسی لڑکی کو ہمت کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھا تو ان کہ بھی ہمت بڑھنے لگی۔
اس لڑکی نے اس کے بعد اپنی کلاس میٹس سے چند دلچسپ سوال پوچھے ، جیسے کس استاد میں کون سی خوبی ہے؟ اس اسکول میں کیا کیا اچھا ہے؟ اور آپ کو باقی اسکولوں میں اور اپنے اسکول میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے؟وغیرہ وغیرہ۔
یہ سوالات بھلے ہی بچگانہ تھے لیکن اس لڑکی کی اس ہمت نے ہی باقی بچوں کی ہمت بڑھانے میں مدد کی۔ میں اگرچہ لگاتار باہر کا نظارہ دیکھ رہا تھا اور باقی اساتذہ و دیگر ذمہ داران  کے ساتھ رابطے میں تھا لیکن مجھ سے بھی زیادہ ہمت اس بہادر اور نڈر اسٹوڈنٹ نے دکھائی۔   اس کے بعد جب اسے لگا کہ اب سواالات اور جوابات سے  بچوں کا وہ ڈر تھوڈا کم ہوا تو اس نے الیکٹرانک بورڈ پہ کچھ دلچسپ ویڈیوز چلا کر بچوں کا دھیان مزید بھٹکانے کی حکمت عملی کی۔  یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک حالات پھر سے ٹھیک نہ ہوئے۔
بالآخر میں نے جس انداز سے ان بچیوں کو ان خطرناک حالات سے ایک تجربہ کار انسان کی طرح نمٹتے دیکھا میں بہت ہی متاثر ہوا۔ اللہ تعلی انہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ یوں تو ایک استاد کو ہر دن ایک نئی چیز سیکھنے کو ملتی ہے لیکن جو آج میں نے دیکھا شاید آج تک میں نے کبھی کسی بچے میں وہ ہمت وہ حوصلہ اور وہ تجربہ نہیں دیکھا تھا۔

جعلی ‏میڈیا ‏اور ‏بلیک ‏میلنگ

بشکریہ روزنامہ کشمیر عظمیٰ سرینگر