عمدہ کپڑے زیب تن کرنے یا ٹائی باندنے سے انسان بہتر نہیں ہو جاتا۔ انسان کی زبان اور اخلاق صحیح ہونے چاہئے۔ میں دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ کچھ پڑھے لکھے انپڑھ افراد جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور قابل سمجھنے کی خوش فہمی میں ہیں، فیس بک پر ایسے ایسے پوسٹ اور فکرے لکھ کر اپلوڈ کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو شرم آجائے۔ میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ اخلاقی طور گرنے والا شخص اپنے آپ کو کتنا بھی قابل سمجھتا ہو، کامیاب کبھی نہیں ہو سکتا۔
#اللہ_تعلی_نوجونوں_کو_فہم_واخلاق_سے_نوازے۔
ورنہ یہ قوم بھی فرہنگی قوم کی طرح خسارے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ بلاگ محظ اس لئے تیار کیا گیا تاکہ ہم اسے وادی کے اردو اخبارات میں چھپنے والے اپنے مضامین کے ایک مجموعہ کی صورت میں استعمال کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس بلاگ میں کچھ اہم ادبی خبریں اور مضامین شائع کئے جایئں گے جو کسی دوسرے لیکھک کی تخلیق ہو۔ ہمارا مقصد اپنی بات انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا اور اردو زبان کو فروغ دینا ہے۔ شکریہ مدثر حسن مرچال زینہگیر کشمیر
Monday, August 7, 2017
تلخ نوائی
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
(12 نومبر 2016 کو کشمیر عظمی میں چھپا میرا مضمون) کشمیر میں رواں ایجی ٹیشن کے دوران جہاں بے شمار دل دہلانے والے واقعات رونما ہوئے ،وہیں نظا...
-
خوشی بھرے ماحول میں سب ہنسی مزاق میں محو تھے۔کوئی ندی کے کنارے تصویریں لے رہا تھا تو کوئی طرح طرح سے دوستوں کا منورنجن کرنے میں لگا تھا۔ می...
-
کشمیر کے موجودہ حالات کیا حقیقت کیا فسانہ ؟؟؟؟ (مدثر حسن مرچال۔۔۔۔۔۔ہردوشیواہ زینہ گیر کشمیر) خطئہ کشمیر میں حال ہی میں ایک پولیس افسر ک...